مستدرکِ حاکم
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: سیدنا براء بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: البراء بن مالك بن النَّضْرِ بن ضَمْضَم بن زيد بن حَرَام بن جُندُب بن عامر بن غَنْم بن عَدِي بن النَّجّار، وأمه أم سُليم بنت مِلْحان، وهو أخو أنس بن مالك لأبيه وأمّه، شهد أحُدًا والخندق والمَشاهِد كلَّها مع رسول الله ﷺ، وكان شُجاعًا له في الحرب مَكَانة (1).
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ براء بن مالک بن نضر بن ضَمضَم بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار (کا یہ نسب ہے)، ان کی والدہ ام سلیم بنت ملحان تھیں، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے سگے بھائی تھے۔ انہوں نے غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت کی، وہ انتہائی بہادر تھے اور جنگوں میں ان کا ایک خاص مقام تھا۔
ذُكر عن ابن سِيرِين أنه قال: كتب عمرُ بن الخطاب: أن لا تَستعمِلوا البراءَ بنَ مالك على جيشٍ من جُيوش المسلمين، إنه مَهلَكةٌ من المَهالك، يُقدِمُ بهم (2).
ابن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (اپنے گورنروں کو) لکھا: ”تم براء بن مالک کو مسلمانوں کے کسی لشکر کا امیر (سپہ سالار) مقرر نہ کرنا، کیونکہ وہ (بہادری کے معاملے میں) ہلاکتوں میں سے ایک ہلاکت ہیں، وہ لوگوں کو لے کر (ایسے جوکھم میں) جا پڑتے ہیں (جہاں ہلاکت کا اندیشہ ہوتا ہے)۔ (یعنی نہایت بے خوف اور انتہائی جرأت مند ہیں، اور اپنی اسی بے باکی کی وجہ سے لشکر کو بہت خطرناک مہمات میں لے جاتے ہیں)۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات" (4/ 329 اور 9/ 16) میں ہے۔