کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس کے پاس کسی حاکم کے لیے نصیحت ہو تو وہ اسے علانیہ نہ کہے
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي - فيما انتَقى (3) عليه أبو علي الحافظ - حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زِبْريق (4) الحِمصي، حدثنا أبي، حدثنا عمرو بن الحارث، عن عبد الله بن سالم، عن الزُّبيدي، حدثنا الفُضَيل بن فَضَالة، يَردُّهُ إلى [ابن] (5) عائذ، يردُّه [ابن] عائذ إلى جُبير بن نُفَير: أنَّ عِياضَ بن غَنْم الأشْعَريَّ (6) وَقَعَ على صاحب دارا حين فُتِحت، فأتاهُ هشامُ بن حَكيم فأغْلَظَ له القولَ، ومَكَثَ هشام لياليَ، فأتاه هشامٌ معتذرًا، فقال له هشامٌ: ألم تعلمْ أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "إنَّ أشدَّ الناسِ عذابًا يومَ القيامة أشدُّ الناس عذابًا للناس في الدنيا"؟ فقال له عياضٌ: يا هشامُ، إنا قد سمعنا الذي قد سمعتَ، ورأَينا الذي قد رأيتَ، وصَحِبنا مَن صحبتَ. ألم تسمع يا هشامُ رسولَ الله ﷺ يقولُ: "مَن كانت عنده نَصيحةٌ لذي سُلطانٍ، فلا يُكلِّمْه بها علانيةً، وليأخُذْ بيده وليَخْلُ به، فإن قَبِلَها قَبِلَها، وإلا كان قد أدّى الذي عليه والذي له"، وإنك يا هشامُ لأنتَ المُجتَرئُ أن تَجترئ على سُلطانِ الله، فهلّا خَشِيتَ أن يَقتُلك سلطانُ الله، فتكونَ قَتيلَ سُلطانِ الله (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5269 - ابن زريق واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5269 - ابن زريق واه
حافظ طلحہ بابر
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ جب (شہر) دارا فتح ہوا تو سیدنا عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ وہاں کے حاکم پر سختی سے پیش آئے (یا اسے سزا دی)۔ سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں سخت سست کہا۔ پھر کچھ دن گزرنے کے بعد ہشام ان کے پاس معذرت کے لیے آئے۔ ہشام نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہو“؟ عیاض نے جواب دیا: اے ہشام! ہم نے بھی وہی سنا ہے جو آپ نے سنا، اور وہی دیکھا ہے جو آپ نے دیکھا، اور ہم نے بھی ان ہی کی صحبت پائی ہے جن کی آپ نے پائی (یعنی رسول اللہ ﷺ)۔ اے ہشام! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: ”جس شخص کے پاس کسی صاحبِ اقتدار (سلطان) کے لیے کوئی نصیحت ہو، تو وہ اس کا اظہار علانیہ نہ کرے، بلکہ اسے ہاتھ سے تھام کر تنہائی میں لے جائے، پھر اگر وہ (سلطان) نصیحت قبول کر لے تو ٹھیک، ورنہ اس نے وہ حق ادا کر دیا جو اس کے ذمے تھا“۔ اے ہشام! آپ تو اللہ کے مقرر کردہ سلطان پر جرات کرنے والے ہیں، کیا آپ کو یہ خوف نہیں کہ اللہ کا سلطان آپ کو قتل کر دے اور آپ اللہ کے سلطان کے مقتول کہلائیں؟
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الحسن بن محمد بن إسحاق الأزهري، حدثنا الحسين بن إسحاق التُّسْتَري، حدثنا داهُر بن نُوحٍ، حدثنا عمرو بن الوليد، قال: سمعت معاوية بن يحيى الصَّدَفي يقول: حدثنا يحيى بن جابر، عن جُبير بن نُفَير، عن عِياض بن غَنْم، قال: قال لي رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ: "يا عِياضُ، لا تَزَوَّجَنَّ عجوزًا ولا عاقرًا، فإني مُكاثِرٌ بكم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ البَرَاء بن مالك الأنصاري أخِ أنس بن مالك ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5270 - معاوية بن يحيى ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ البَرَاء بن مالك الأنصاري أخِ أنس بن مالك ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5270 - معاوية بن يحيى ضعيف
حافظ طلحہ بابر
جبیر بن نفیر، سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجھ سے فرمایا: ”اے عیاض! کسی بوڑھی یا بانجھ عورت سے نکاح نہ کرنا، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت کے ذریعے (دیگر امتوں پر) فخر کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا براء بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ (سیدنا انس بن مالک کے بھائی) کے مناقب کا ذکر۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا براء بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ (سیدنا انس بن مالک کے بھائی) کے مناقب کا ذکر۔