حدثناه أبو الطَّيب محمد بن عبد الله الشَّعِيري (1)، حدثنا محمد بن أشْرَس، حدثنا إبراهيم بن سليمان الزيّات، حدثنا بَحْر بن كَنِيز، حدثنا الزُّهْري، عن عبد الله بن ثَعْلبة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: أنه فَرَضَ صدقة الفِطْر عن الصغير والكبير، صاعًا من تمر أو مُدَّين من قمح (1).
هذا حديثٌ رواه أكثرُ أصحاب الزُّهْري عنه عن عبد الله بن ثَعْلبة عن النبي ﷺ لم يَذكُروا أباهُ. ذكرُ مناقب عبد الله بن ثَعْلبة ﵁ -
هذا حديثٌ رواه أكثرُ أصحاب الزُّهْري عنه عن عبد الله بن ثَعْلبة عن النبي ﷺ لم يَذكُروا أباهُ. ذكرُ مناقب عبد الله بن ثَعْلبة ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر اپنے والد سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے چھوٹے بڑے سب پر صدقہ فطر فرض کیا، یعنی ایک صاع کھجور یا دو مد (نصف صاع) گندم۔
امام زہری کے اکثر شاگردوں نے اس حدیث کو ان (زہری) سے، انہوں نے عبداللہ بن ثعلبہ سے اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
امام زہری کے اکثر شاگردوں نے اس حدیث کو ان (زہری) سے، انہوں نے عبداللہ بن ثعلبہ سے اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: وعبدُ الله بن ثَعْلبة بن صُعَير بن أبي صُعَير العدوي، ولد قبل الهجرة بأربع سنين، حُمِل إلى رسول الله ﷺ فَمَسَح وجهَه وبَرَّك عليه عامَ الفتح، وتوفي رسولُ الله ﷺ وهو ابن أربع عشرة، وتوفي عبدُ الله بن ثَعْلبة - وكنيته أبو محمد - سنةَ تسعٍ وثمانين، وهو ابن ثلاثٍ وتسعين سنة.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر بن ابی صعیر عدوی ہجرت سے چار سال قبل پیدا ہوئے، فتح مکہ کے سال انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی، رسول اللہ ﷺ کے وصال کے وقت ان کی عمر چودہ سال تھی، عبداللہ بن ثعلبہ (جن کی کنیت ابو محمد تھی) کی وفات سنہ 89 ہجری میں ترانوے سال کی عمر میں ہوئی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو اليَمَان، حدثنا شعيب، عن الزُّهْري، عن عبد الله بن ثعلبة بن صُعَير: أَنَّ النبي ﷺ مَسَحَ على رأسِه (2).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا۔
حدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عبد الله بن ثعلبة بن صُعَير العَدَوي، وكان وُلِدَ عام الفتح، فأُتي به رسولُ الله، فمَسَح وجهَه وبَرَّك عليه (1). ذكرُ مناقب عبد الله بن عَدِيّ بن الحَمْراء ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عدوی سے روایت ہے، وہ فتح مکہ کے سال پیدا ہوئے تھے، انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔