المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ کے مناقب
حدیث نمبر: 5297
حدثناه أبو الطَّيب محمد بن عبد الله الشَّعِيري (1)، حدثنا محمد بن أشْرَس، حدثنا إبراهيم بن سليمان الزيّات، حدثنا بَحْر بن كَنِيز، حدثنا الزُّهْري، عن عبد الله بن ثَعْلبة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: أنه فَرَضَ صدقة الفِطْر عن الصغير والكبير، صاعًا من تمر أو مُدَّين من قمح (1).
هذا حديثٌ رواه أكثرُ أصحاب الزُّهْري عنه عن عبد الله بن ثَعْلبة عن النبي ﷺ لم يَذكُروا أباهُ. ذكرُ مناقب عبد الله بن ثَعْلبة ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر اپنے والد سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے چھوٹے بڑے سب پر صدقہ فطر فرض کیا، یعنی ایک صاع کھجور یا دو مد (نصف صاع) گندم۔
امام زہری کے اکثر شاگردوں نے اس حدیث کو ان (زہری) سے، انہوں نے عبداللہ بن ثعلبہ سے اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره دون قوله: أو مُدَّين من قَمْح، كما بيَّناه عند الرواية السابقة، ومحمد بن أشرس وبحر بن كَنِيز - وهو السَّقّاء - ضعيفا الحديثِ، لكنهما قد توبعا، غير أنَّ الحديث مُعلٌّ سندًا ومتنًا كما سبق.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، سوائے اس قول کے: "یا گندم کے دو مُد"، جیسا کہ ہم نے پچھلی روایت میں بیان کیا۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اشرس اور بحر بن کنیز (السقّاء) دونوں حدیث میں "ضعیف" ہیں، لیکن ان دونوں کی متابعت کی گئی ہے۔ البتہ حدیث سند اور متن دونوں اعتبار سے "معلول" ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، سوائے اس قول کے: "یا گندم کے دو مُد"، جیسا کہ ہم نے پچھلی روایت میں بیان کیا۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن اشرس اور بحر بن کنیز (السقّاء) دونوں حدیث میں "ضعیف" ہیں، لیکن ان دونوں کی متابعت کی گئی ہے۔ البتہ حدیث سند اور متن دونوں اعتبار سے "معلول" ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5297 سے ماخوذ ہے۔