المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ کے مناقب
حدیث نمبر: 5300
حدثنا أبو عبد الله الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عبد الله بن ثعلبة بن صُعَير العَدَوي، وكان وُلِدَ عام الفتح، فأُتي به رسولُ الله، فمَسَح وجهَه وبَرَّك عليه (1). ذكرُ مناقب عبد الله بن عَدِيّ بن الحَمْراء ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عدوی سے روایت ہے، وہ فتح مکہ کے سال پیدا ہوئے تھے، انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالسماع في رواية يونس بن بُكَير عند البيهقي في "الدلائل" 3/ 290، وابن الأثير في "أسد الغابة" 3/ 87، وابن عساكر 27/ 180.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: انہوں نے سماع کی تصریح کی ہے، جو یونس بن بُکیر کی روایت میں بیہقی کی "الدلائل" (3/ 290)، ابن اثیر کی "اسد الغابہ" (3/ 87) اور ابن عساکر (27/ 180) میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: انہوں نے سماع کی تصریح کی ہے، جو یونس بن بُکیر کی روایت میں بیہقی کی "الدلائل" (3/ 290)، ابن اثیر کی "اسد الغابہ" (3/ 87) اور ابن عساکر (27/ 180) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5300 سے ماخوذ ہے۔