کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا شرحبيل بن حسنہ رضی اللہ عنہ شام کے امیروں میں سے تھے
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: كان شرحبيل بن حَسَنة من أصحابِ رسولِ الله ﷺ، وغزا معه غَزَواتٍ، وهو أحدُ الأمراءِ الذين عَقَدَ لهم أبو بكر الصِّدِّيق على الشام (1).
حافظ طلحہ بابر
شرحبیل بن حسنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کے ہمراہ کئی غزوات میں شرکت کی، وہ ان امرائے لشکر میں سے ایک تھے جنہیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی فتوحات کے لیے مقرر کیا تھا۔
أخبرني حامد بن محمد الهَرَوي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا هَمّام، حدثنا قَتَادة ومَطَر الوَرّاق، عن شهر بن حَوشَب، عن عبد الرحمن بن غَنْم، قال: وقع الطاعون بالشام، فخَطَبَنا عمرو بن العاص، فقال: إنَّ هذا الطاعونَ رِجْسٌ فَفِرُّوا منه في الأودية والشَّعاب، فبلغ ذلك شُرحبيلَ بنَ حَسَنة، فقال: كَذَب عمرٌو؛ صحبتُ رسولَ الله ﷺ وعمرٌو أضلُّ من جَمَلِ أهلِه، ولكنه رحمةُ ربِّكم، ودعوةُ نَبيِّكم ﷺ، ووفاةُ الصالحين قَبلَكم (2). ذكرُ مناقب أبي جَنْدل بن سُهيل بن عَمرو ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5207 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5207 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے کہ جب شام میں طاعون پھیلا تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”بیشک یہ طاعون ایک گندگی (ناپاکی) ہے، لہٰذا تم اس سے بھاگ کر وادیوں اور پہاڑوں کی گھاٹیوں میں چلے جاؤ“، جب یہ بات شرحبیل بن حسنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ”عمرو نے غلط کہا؛ میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہا ہوں جبکہ عمرو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ لاعلم تھا، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) یہ تمہارے رب کی رحمت ہے، تمہارے نبی ﷺ کی پکار ہے اور تم سے پہلے صالحین کی وفات کا طریقہ ہے۔“