کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا شرحبيل بن حسنہ رضی اللہ عنہ یومِ یرموک وفات پا گئے
أخبرنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عُمَر، قال: وشُرحبيل بن حَسَنة وحسنةُ أمُّه، وهي عَدَوْلِيَّة، وأبو شُرحبيل: عبد الله بن المُطاع بن عمرو، من كِنْدة حليفٌ لبني زُهرة، يكنى أبا عبد الله، وهو من مُهاجري الحبشة الهجرةَ الثانية (2).
حافظ طلحہ بابر
شرحبیل بن حسنہ کے متعلق مروی ہے کہ حسنہ ان کی والدہ تھیں جن کا تعلق قبیلہ عدولی سے تھا، ان کے والد عبداللہ بن مطاع بن عمرو قبیلہ کندہ سے تعلق رکھتے تھے اور بنو زہرہ کے حلیف تھے، ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور وہ حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔
أخبرني الحُسين بن علي التَّمِيمي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسين، حدثنا عمرو بن زُرَارة، حدثنا زياد بن عبد الله البَكّائي، عن محمد بن إسحاق، في تسمية مَن هاجر إلى الحبشة: شُرحبيل بن حَسَنة، هاجرت أمُّه حَسَنةُ إلى أرض الحبشة مع زوجها سفيان بن مَعْمَر بن حبيب بن وَهْب بن حُذافة بن جُمَح (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن اسحاق سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے متعلق روایت ہے کہ ان میں شرحبیل بن حسنہ بھی تھے، ان کی والدہ حسنہ نے اپنے شوہر سفیان بن معمر بن حبیب کے ساتھ ارضِ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة بن خَيّاط، قال: شُرحبيل بن عبد الله بن المُطاع بن عَمرو (2) بن عبد العُزَّى (3)، وأمُّه حَسَنةُ، وولاؤها لمَعمَر (4) بن حَبيب، وتوفي شُرحبيل بن حَسَنة في طاعون عَمَواس سنة ثمانَ عشرةَ، وهو ابن سبع وستين سنةً (5).
حافظ طلحہ بابر
شرحبیل بن عبداللہ کا نسب یہ ہے: شرحبیل بن عبداللہ بن مطاع بن عمرو بن عبدالعزی، ان کی والدہ حسنہ تھیں اور ان کی ولاء (تعلق) معمر بن حبیب سے تھی، شرحبیل بن حسنہ کی وفات سنہ 18 ہجری میں طاعونِ عمواس میں ہوئی جبکہ ان کی عمر سڑسٹھ سال تھی۔
أخبرنا محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العَتَكي، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حماد، حدثنا ابن المُبارك، عن معمر، عن الزُّهْرِي، عن عُرْوة: أنَّ النجاشي بعث أمَّ حَبيبة إلى النبيِّ ﷺ مع شُرحْبيلَ بن حَسَنةَ (6).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ سے روایت ہے کہ نجاشی نے سیدہ امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا تھا۔