کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت
فأخبرَناهُ أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر، عن سُليمان بن بلال، قال: وقال يحيى بن سعيد: أخبرني أبو الزُّبير، أنَّ أبا مَعْبَد مولى عبد الله بن عباس أخبره، أنه سمِع عبدَ الله بن عباس يحدِّث عن العباس بن عبد المطلب، أنه قال: لما كان يومُ عَرَفة والفضلُ رَدِيفُ رسولِ الله ﷺ، والناسُ كثيرٌ حولَ رسولِ الله ﷺ، فلما كَثُر الناسُ، قلت: سيُحدِّثني الفضلُ عما صَنَعَ رسول الله ﷺ، فقال الفضلُ: دَفَعَ رسولُ الله ﷺ وَدَفَعَ الناسُ معه، فجعل رسولُ الله ﷺ يُمسِك بزمَامِ بَعِيرِه، وجعل يُنادي الناسَ: "عليكم السَّكينةَ"، فلما بلغ المُزدَلِفة نزل فصلَّى المغربَ والعِشاءَ الآخرة جميعًا، حتى إذا طَلَع الفجرُ صلَّى الصبحَ، ثم وَقَف بالمزدَلِفة عند المَشْعَر الحَرام، ثم دَفَعَ ودَفَع الناسُ معه يُمسك برأس بعيره، وجعل يقولُ: "أيها الناسُ، عليكم السَّكينةَ"، حتى إذا بلغ مُحسِّرًا أَوضَعَ شيئًا، وجعل يقول: "عليكم بحَصى الخَذْف" (1). صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد روى غيرُ أبي الزُّبير عن أبي مَعْبَد، ولم يُخرجاه. وأما حديثُ أخيه عبد الله بن عباس فإنه مُخرَّج في "الصحيحين" من حديث عطاء وأبي مَعْبَد عن ابن عباس، بلفظَتين: "عليكم السَّكينةَ"، وكان يَرمي الجَمْرة (1)، وهذا لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5199 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5199 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے روایت کرتے ہیں کہ جب عرفہ کا دن تھا اور فضل (بن عباس) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اردگرد لوگوں کا ہجوم تھا، جب لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو میں نے سوچا کہ فضل مجھے بتائیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا کیا، تو فضل رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ (عرفات سے) روانہ ہوئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلے، آپ ﷺ اپنے اونٹ کی لگام تھامے ہوئے تھے اور لوگوں کو پکار رہے تھے: ”تم وقار اور سکون کو لازم پکڑو“، پھر جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے تو وہاں اتر کر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا فرمائیں، پھر جب فجر طلوع ہوئی تو صبح کی نماز پڑھی اور مزدلفہ میں مشعرِ حرام کے پاس ٹھہرے، پھر آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلے، آپ ﷺ اپنے اونٹ کا سر تھامے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: ”اے لوگو! وقار اور سکون کو لازم پکڑو“، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وادیِ محسر پہنچے تو سواری کو تھوڑا تیز کیا اور فرمانے لگے: ”تم چھوٹی کنکریاں استعمال کرو“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ابو زبیر کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی اسے ابو معبد سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے ان الفاظ میں روایت نہیں کیا، جبکہ ان کے بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ”صحیحین“ میں عطاء اور ابو معبد کے واسطے سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ”سکون کو لازم پکڑو“ اور یہ کہ وہ جمرہ کو کنکریاں مار رہے تھے، لیکن اس موجودہ سند کو ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ابو زبیر کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی اسے ابو معبد سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے ان الفاظ میں روایت نہیں کیا، جبکہ ان کے بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ”صحیحین“ میں عطاء اور ابو معبد کے واسطے سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے: ”سکون کو لازم پکڑو“ اور یہ کہ وہ جمرہ کو کنکریاں مار رہے تھے، لیکن اس موجودہ سند کو ان دونوں نے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الطيِّب الشَّعِيري محمد بن عبد الله، حدثنا مَحمِش بن عِصام، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان عن الحسن بن عُمارة، عن الحَكَم بن عُتَيبة، عن طاووس، عن ابن عباس. وعَديّ بن ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنه كان رَدِيفَ رسولِ الله ﷺ ليلةَ جَمْعٍ، فلما أفاضَ رسولُ الله ﷺ قال: "أيُّها الناسُ، عليكم بالسَّكينة، فإنَّ البِرَّ ليس بإيضاعِ الخيلِ والإبلِ" (2). ذكرُ مناقب شُرَحْبيل بن حَسَنةَ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5200 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5200 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ مزدلفہ کی رات رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، جب رسول اللہ ﷺ وہاں سے (منیٰ کی طرف) روانہ ہوئے تو فرمایا: ”اے لوگو! تم پر سکون اور وقار لازم ہے، کیونکہ نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو (تیزی سے) دوڑانے کا نام نہیں ہے۔“