کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا فضل بن عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان — آپ یومِ یرموک شہید ہوئے
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: والفَضل بن عَباس بن عبد المُطّلب بن هاشم، يُكنى أبا محمد، غَزَا مع رسول الله ﷺ مكةَ وحُنينًا، وثَبَتَ معه حين ولَّى الناسُ مُنهزِمين، وشَهِدَ معه حَجّةَ الوداع، وكان فيمن غَسَّل رسولَ الله ﷺ ووَلِيَ دَفْنه، ثم خرج إلى الشام مُجاهدًا [فمات] (1) بناحية الأُردنِّ في طاعون عَمَواس سنة ثمانَ عشرةَ من الهجرة، وذلك في خِلافة عمر بن الخطاب (2).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ فضل بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم کی کنیت ابو محمد تھی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مکہ اور حنین کے غزوات میں شرکت کی اور اس وقت ثابت قدم رہے جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے تھے، وہ حجۃ الوداع میں بھی شریک تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا اور آپ ﷺ کی تدفین کے معاملے کو سنبھالا، پھر وہ جہاد کے لیے شام روانہ ہوئے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سنہ 18 ہجری میں طاعونِ عمواس کے دوران اردن کے علاقے میں وفات پائی۔
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب، سمعت العباس يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: قُتِل الفَضْل بن عباس يومَ اليرموك في عهد أبي بكر الصِّديق (3).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں جنگِ یرموک کے دن شہید ہوئے تھے۔
أخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا الثَّقفي، حدثنا عُبيد الله بن سعْد الزُّهري، حدثنا عمِّي يعقوب بن إبراهيم، عن أبيه، عن [ابن] (1) إسحاق، قال: الفضلُ بن عَبّاس بن عبد المُطّلب كنيتُه أبو محمد، وأمُّه أم الفَضْل، واسمها لُبَابة بنت الحارث، قُتِل في خلافة أبي بكر مع خالد بن الوليد (2). قد حدَّث العباسُ بن عبد المطلب وعبدُ الله بن عباس عن الفَضْل بن عباس. أما حديث أبيه العباس عنه:
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ فضل بن عباس بن عبد المطلب کی کنیت ابو محمد تھی اور ان کی والدہ ام الفضل تھیں جن کا نام لبابہ بنت حارث تھا، وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر کے ساتھ (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہوئے۔