کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے خطبے کا بیان
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا قُرّة بن خالد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، حدثنا قُرّة بن خالد، عن حُميد بن هِلال. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب - واللفظ له - حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أسَد بن موسى، حدثنا سليمان بن موسى (1)، عن حُميد بن هلال، عن خالد بن عُمير العَدَوي، قال: خَطبَنا عُتبةُ بن غَزْوان، فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعدُ، فإنَّ الدنيا قد آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّت حَذّاءَ، وإنما بقيَ منها صُبَابةٌ كصُبَابة الإناء يَصطَبُّها صاحبُها، وإنكم مُنتقِلون منها إلى دارٍ لا زوالَ لها، فانتقِلوا منها بخيرِ ما بحَضْرتِكم، فإنه قد ذُكِر لنا: أنَّ الحَجَر يُلقَى من شَفِير جَهنّم، فيَهوي بها سبعينَ عامًا، وما يُدرِكُ لها قَعْرًا، فوالله لَتُمْلأنَّهُ، أفَعجِبتُم! وقد ذُكر لنا: أنَّ مِصرَاعَين من مَصارِيع الجنةِ بينهما أَربعون سنةً، وليأتِيَنّ عليه يومٌ وهو كَظِيظُ الزِّحام، ولقد رأيتُني وإني لَسابعُ سبعةٍ مع رسول الله ﷺ ما لنا طعامٌ إلَّا وَرَقُ الشجر حتى قَرَحَتْ أشْداقُنا، وإني التَقطْتُ بُرْدةً فشَقَقْتُها بيني وبين سعد بن أبي وَقّاص فارسِ الإسلام، فاتَّزرتُ بنصفِها واتَّزرَ سعدٌ بنصفِها، وما أصبحَ منا اليومَ أحدٌ حيٌّ إلَّا أصبحَ أميرَ مِضْرٍ من الأمصار، وإنني أعوذُ بالله أن أكونَ في نَفْسي عظيمًا، وعند الله صغيرًا، وإنها لم تكن نُبوّةٌ قَطُّ إلَّا تناقَصَتْ حتى يكون عاقبتُها مُلكًا، وستُجرّبون - أو تَبْلُونَ - الأمراءَ بَعدِي (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5139 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
خالد بن عمیر عدوی سے روایت ہے کہ سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: امابعد! بیشک دنیا اپنے خاتمے کی خبر دے چکی ہے اور تیزی سے پیٹھ پھیر کر جا رہی ہے، اب اس میں سے صرف اتنا ہی باقی رہ گیا ہے جتنا برتن کے پیندے میں بچا ہوا پانی جسے اس کا مالک انڈیل لیتا ہے، اور یقیناً تم یہاں سے ایک ایسے گھر (آخرت) کی طرف منتقل ہونے والے ہو جسے کبھی زوال نہیں، پس تم وہاں بہترین اعمال کے ساتھ منتقل ہو جو تمہارے پاس میسر ہیں، کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا تو وہ ستر سال تک اس میں گرتا رہے گا مگر اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے گا، اور اللہ کی قسم! وہ ضرور بھر دی جائے گی، کیا تم (اس وسعت پر) تعجب کرتے ہو؟ اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنت کے دروازے کے دو پٹ کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، اور یقیناً اس پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ (لوگوں کی کثرت سے) کھچا کھچ بھرا ہوا ہوگا، اور میں نے خود کو اس حال میں دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسلام لانے والا ساتواں شخص تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ تھا یہاں تک کہ (انہیں کھا کر) ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں، مجھے ایک چادر ملی تو میں نے اسے اپنے اور اسلام کے شہسوار سعد بن ابی وقاص کے درمیان چاک کر کے بانٹ لیا، میں نے اس کے نصف حصے کو تہبند کے طور پر استعمال کیا اور سعد نے بھی اس کے نصف کو تہبند بنایا، اور آج ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو زندہ ہو مگر وہ شہروں میں سے کسی نہ کسی شہر کا امیر (گورنر) بن چکا ہے، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنی نظر میں بڑا بنوں اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں، اور نبوت ختم ہو چکی ہے جو (آہستہ آہستہ) انسانی تغیرات کی وجہ سے تبدیل نہ ہوئی ہو یہاں تک کہ اس کا انجام بادشاہت پر ہوا، اور تم میرے بعد آنے والے حکمرانوں کو دیکھ کر (میری بات کی حقیقت) جان لو گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5220
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5220] [ترقيم الشركة 5175] [ترقيم العلميه 5139]
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ - وأنا سألتُه - حدثنا الحسن ابن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا عبد الملك بن بشير السامِيّ (1)، حدثنا أبو حَفْص عمر بن الفضل السُّلَمي، حدثنا عتبة بن إبراهيم بن عُتبة بن غَزوان، عن أبيه، عن جَدِّه عُتبة بن غَزوان: أنَّ رسول الله ﷺ قال يومًا لقُريش: "هل فِيكم أحدٌ من غيرِكم؟ " قالوا: ابن أُختِنا عُتبةُ بن غَزْوان، فقال: "ابن أُختِ القومِ مِنهُم" (2). ذكرُ عتبة بن غزوان في هذا الحديث غريب جدًّا، وفضائلُه كثيرة، وهذا من أجلّ فضائلِه. ومَسانيدُ عُتبة بن غزوان عن رسول الله ﷺ عزيزةٌ، وقد كتبْنا من ذلك حديثًا استغربْناه جدًّا، فأنا ذاكِرُه وإن لم يكن الغَلَابيّ من شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5140 - إسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن قریش سے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو تم میں سے نہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: (کوئی اجنبی تو نہیں) البتہ ہماری بہن کا بیٹا عتبہ بن غزوان ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی قوم کی بہن کا بیٹا ان ہی میں سے شمار ہوتا ہے۔“
اس حدیث میں سیدنا عتبہ بن غزوان کا ذکر آنا بہت نادر ہے، ان کے فضائل کثیر ہیں اور یہ ان کے عظیم ترین فضائل میں سے ہے، رسول اللہ ﷺ سے سیدنا عتبہ بن غزوان کی مرویات بہت کم ہیں، ہم نے ان سے ایک ایسی حدیث لکھی ہے جسے ہم نے بہت نادر پایا ہے، چنانچہ میں اسے ذکر کر رہا ہوں اگرچہ غلابی اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5221
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة حال عُتبة بن إبراهيم بن عُتبة بن غَزوان
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة حال عُتبة بن إبراهيم بن عُتبة بن غَزوان، وأبوه إبراهيم لا يُعرف إلّا بهذا الإسناد، وقال الذهبي في "تلخيصه": إسناده مُظلم.» [ترقيم الرساله 5221] [ترقيم الشركة 5176] [ترقيم العلميه 5140]
حدَّثَناهُ أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا عبد الرحمن بن عَمرو بن جَبَلة، حدثنا عمر بن الفضل السُّلَمي، حدثنا غَزْوان بن عُتبة بن غزوان، عن أبيه، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن كَذَب علَيَّ متعمدًا، فلْيتَبوَّأْ مَقعدَه من النارِ" (3). ذكرُ مناقب أبي عُبيدة بن الجَرّاح ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
غزوان بن عتبہ بن غزوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل عبد الرحمن بن عمرو بن جَبَلة، فهو متروك كما قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 4/ 438، وغزوان بن عُتبة بن غزوان قال العُقيلي في "الضعفاء" 3/ 335: لا يُعرف إلّا بهذا الحديث، ولا يُتابَع على إسناده، والمتن معروف. قلنا: ومحمد بن زكريا الغَلَابي ضعيف واتهمه ...» [ترقيم الرساله 5222] [ترقيم الشركة 5177]