کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھائی) کا ذکر
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُروة، فيمن هاجَرَ إلى أرض الحبشة مع جعفر ﵁ من بني زُهْرة بن كِلاب: عُتبةُ بن مسعود وأخوه عبدُ الله بن مسعود ﵄ (2).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے ان لوگوں کے متعلق روایت ہے جنہوں نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بنو زہرہ بن کلاب میں سے ارضِ حبشہ کی طرف ہجرت کی: ان میں عتبہ بن مسعود اور ان کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔
أخبرني أبو الحُسين (3) الحافظ (4)، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا محمد بن ربيعة، حدثنا أبو عُمَيسٍ، عن عَوْن بن عبد الله بن عُتْبة بن مسعود (1)، عن أبيه، قال: لما مات عُتْبة بن مسعود بكى عبدُ الله بن مسعود، فقيل له: أتبكي؟! فقال: أخي وصاحِبي مع رسولِ الله ﷺ، والثالثُ: وأحبُّ الناس إليَّ، إلَّا ما كان من عمرَ بن الخَطّاب (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5121 - إسناده صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5121 - إسناده صحيح
حافظ طلحہ بابر
عون بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود اپنے والد (عبد اللہ بن عتبہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رونے لگے، ان سے کہا گیا: کیا آپ رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی اور رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں میرے ساتھی تھے، اور (بھائیوں میں) تیسرے تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے علاوہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے۔“
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، [عن] (3) المَسعُودي، عن أبي العُمَيس، عن القاسم، قال: لما ماتَ عُتبةُ بن مسعود انتظر عمرُ بنُ الخطاب أمَّ عَبْدٍ فجاءت فصَلّتْ عليه (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5122 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5122 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
قاسم سے روایت ہے کہ جب عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ام عبد (سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی والدہ) کا انتظار کیا، پھر وہ آئیں اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
أخبرنا محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن الزُّهْري، قال: ما عبدُ الله بن مسعود أعلَى عندنا من أخيه عُتبةَ بن مسعود، ولكنه ماتَ سريعًا (1).
حافظ طلحہ بابر
امام زہری بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے نزدیک اپنے بھائی عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ فضیلت والے نہیں تھے، لیکن عتبہ کی وفات جلد (جوانی میں) ہو گئی تھی۔
حدثنا أبو جعفر البغدادي محمدُ (1) بنُ أحمد بن سعيد الرازي، حدثنا أبو زُرعة الرازي، حدثنا محمد بن سعيد بن سابِق، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن سِماك، عن عبد الله بن عُتبة بن مسعود، عن أبيه، قال: قام رسولُ الله ﷺ يصلِّي صلاةَ الغَداة، فأهْوى بيده قُدّامَه، فسألَه رجلٌ من القوم حين قَضَى الصلاةَ، فقال: "جاء الشيطانُ فانتَهَرْتُه، ولو أخذْتُه لرَبَطتُه إلى ساريةٍ من سَواري المسجد، حتى يَطُوفَ به وِلْدانُ أهلِ المدينة" (2).
حافظ طلحہ بابر
عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے سامنے کی طرف بڑھایا، جب نماز مکمل ہوئی تو ایک شخص نے اس کے متعلق سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان آیا تھا تو میں نے اسے ڈانٹ کر بھگا دیا، اور اگر میں اسے پکڑ لیتا تو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دیتا تاکہ مدینہ کے بچے اس کے گرد چکر لگاتے۔“