حدیث نمبر: 5195
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله بن الزُّبَير، قال: وممَّن صَحِبَ رسولَ الله ﷺ من ولد الحارث بن عبد المُطّلب أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب، وقال له رسول الله ﷺ: "مِن خَيرِ أهلي" أو "إنه خيرُ أهلي". وقال رسول الله ﷺ: "إنه سيّدُ فِتْيان أهلِ الجنة". وصَبَرَ مع رسولِ الله ﷺ يوم حُنين، فأبصَرَه رسولُ الله ﷺ في عَمَايةِ الصبح، فقال: "مَن هذا؟ " قال: ابن أمِّك يا رسولَ الله. حَلَقَه الحلَّاق فقَطَع ثُؤلولًا من رأسِه فلم يَرْقأْ (3) عنه الدمُ حتى ماتَ، وذلك في سنة عشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب ﵁. وكان تَلقَّى رسولَ الله ﷺ ببعضِ الطريق ورسولُ الله ﷺ خارجٌ إلى مكةَ للفَتْح، فأسلمَ قبلَ الفَتح (4).
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حارث بن عبدالمطلب کی اولاد میں سے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت پائی ان میں ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بھی شامل ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا: ”یہ میرے گھر والوں میں سب سے بہتر ہے“ یا فرمایا: ”بیشک وہ میرے گھر والوں میں سے بہترین ہے“، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”بیشک وہ اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں“، وہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ثابت قدمی سے) ڈٹے رہے، تو صبح کے اندھیرے میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا اور دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی ماں کا بیٹا (یعنی آپ کا بھائی) ہوں، ایک حجام نے ان کے سر کی حجامت کی تو وہاں موجود ایک مسا (رسولی) کٹ گیا جس سے خون جاری ہو گیا اور وہ نہ رکا یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی، یہ واقعہ سنہ 20 ہجری کا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، وہ فتح مکہ کے لیے روانگی کے دوران راستے میں رسول اللہ ﷺ سے ملے تھے اور فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5195
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5195] [ترقيم الشركة 5150]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في نسخنا الخطية: يرق، بغير همز، والجادة همزُه.
فنی نکتہ / علّت: (3) ہمارے قلمی نسخوں میں "یرق" (بغیر ہمزہ کے) لکھا ہے، جبکہ درست طریقہ ہمزہ کے ساتھ ہے۔
(4) كلُّ ما ذكره مصعب بن عبد الله الزُّبيري هنا له شواهد تقدَّمت عند المصنف قريبًا.
متابعات و شواہد: (4) مصعب بن عبداللہ الزبیری نے یہاں جو کچھ ذکر کیا ہے اس کے شواہد مصنف کے ہاں قریب ہی گزر چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5195 سے ماخوذ ہے۔