حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان، حدثنا أبو أُسامة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، قال: كان سعدُ بن عُبادة يقول: اللهمَّ هَبْ لي مَجدًا ولا مَجدَ إِلَّا بِفَعَالٍ، ولا فَعَالَ إِلَّا بمالٍ، اللهمَّ لا يُصلِحُني القليلُ، ولا أصلُحُ عليه. وكان له مُنادٍ (1) يُنادي على أُطُمِه: من كان يريد الشَّحمَ واللَّحمَ فليأتِ سعدًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5105 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5105 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ هَبْ لِي مَجْدًا وَلَا مَجدَ إِلَّا بِفَعَالٍ، وَلَا فَعَالَ إِلَّا بِمَالٍ، اللَّهُمَّ لَا يُصْلِحُنِي الْقَلِيلُ، وَلَا أَصْلُحُ عَلَيْهِ.» ”اے اللہ! مجھے بزرگی و عظمت عطا فرما، اور حسنِ عمل کے بغیر کوئی بزرگی نہیں، اور مال کے بغیر کوئی (بڑے پیمانے کا) عمل ممکن نہیں، اے اللہ! تھوڑا مال میرے لیے کافی نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کے ساتھ (سخاوت کے معاملے میں) ٹھیک رہ سکتا ہوں۔“ ان کا ایک منادی ان کے قلعے پر کھڑے ہو کر پکارا کرتا تھا: ”جو کوئی چربی اور گوشت (کھانے) کا ارادہ رکھتا ہو وہ سعد کے پاس آ جائے۔“
أخبرني عَبْدان بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا عَتِيق بن يعقوب، حدثنا عبد الملك بن محمد بن أبي بكر، عن عمِّه عبد الله بن أبي بكر، قال: أخذَ المشركون سعدَ بنَ عُبادة، فرَبَطُوا يدَه إلى عُنُقِه، وأدخَلُوه مكةَ يَضْرِبُونه ويَجُرُّونه بناصيَتِه، وكان ذا جُمّة طويلة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5106 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5106 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ (بیعتِ عقبہ کے بعد) مشرکین نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا، ان کے ہاتھ ان کی گردن سے باندھ دیے اور انہیں مارتے پیٹتے ہوئے مکہ میں داخل کیا، وہ انہیں ان کی پیشانی کے بالوں سے گھسیٹ رہے تھے جبکہ ان کے بال کافی لمبے تھے۔
حدثنا مُكرَم بن أحمد، حدثنا محمد بن عيسى المَدائني، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عَبد الله، عن ابن عباس، عن سعد بن عُبادة: أنَّ أمَّه تُوفِّيَت وعليها صومٌ، قال: فسألتُ النبيَّ ﷺ، فأمَرَني أَن أَقضِيَه عنها (1). قد اتَّفق الشيخان على إخراج هذا الحديثِ: أنَّ أم سعد بن عُبادة تُوفّيت، ولم يَصِلَاهُ عنه (1). وهذا صحيحٌ على شرطهما. ذكر مناقبِ أبي سُفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5107 - المدايني ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5107 - المدايني ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ وفات پا گئیں جبکہ ان کے ذمے کچھ روزے باقی تھے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا: ”تم اپنی والدہ کی طرف سے ان روزوں کی قضا کرو۔“
شیخین نے اس حدیث کی اصل کو روایت کرنے پر تو اتفاق کیا ہے کہ سعد بن عبادہ کی والدہ فوت ہو گئیں، لیکن اسے ان (سعد) سے موصول روایت نہیں کیا، جبکہ یہ حدیث ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔
شیخین نے اس حدیث کی اصل کو روایت کرنے پر تو اتفاق کیا ہے کہ سعد بن عبادہ کی والدہ فوت ہو گئیں، لیکن اسے ان (سعد) سے موصول روایت نہیں کیا، جبکہ یہ حدیث ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے۔