المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - شَجَاعَةُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو سفیان بن الحارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدثنا محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب بن هاشِم، وكان أخا رسولِ الله ﷺ من الرَّضاعة وابن عَمِّه، أرضعَتْه حَليمةُ أيامًا، فكان يألَفُ رسولَ الله ﷺ، فلما بُعِث رسولُ الله ﷺ عاداه وهَجَاه وهَجَا أصحابَه، فمَكَثَ عشرين سنةً مُناصبًا لرسول الله ﷺ، لا يَتخلَّف عن موضعٍ تسير فيه قريش لقتالِ رسول الله ﷺ، فلما ذُكِر شُخُوص رسولِ الله ﷺ إلى مكةَ عامَ الفتحِ ألقى الله ﷿ في قلبِه الإسلامَ، فتلقّى رسولَ الله ﷺ قبل نُزولِه الأَبْواءَ، فأسلم هو وابنه جعفرٌ، وخرج مع رسول الله ﷺ فشَهِد فتحَ مكة وحُنينًا. قال أبو سفيان: فلما لَقِينا العدوَّ بحُنينٍ اقتحمْتُ عن فرسي وبيدي السيفُ صَلْتًا، واللهُ يعلمُ أني أريد الموتَ دونَه، وهو يَنظُر إليَّ، فقال العباسُ: يا رسولَ الله، هذا أخوك وابنُ عمّك أبو سفيان بن الحارث، فارْضَ عنه، قال: "قد فعلتُ يَغْفِرُ اللهُ له كلَّ عَداوةٍ عادَانِيها" ثم الْتفتَ إليَّ فقال: "أخي لَعَمْري"، فقبّلتُ رِجلَه في الرِّكاب (1). قالوا: ومات أبو سفيان بن الحارث بالمدينة بعد أخيه نوفل بن الحارث بأربعةِ أشهرٍ إلَّا ثلاثةَ عشرَ ليلةً، ويقال: مات سنة عِشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب، وقُبر في رُكْن دار عَقِيل بن أبي طالب بالبَقيع، وهو الذي حفر قبرَ نفسِه قبل أن يموت بثلاثةِ أيامٍ (2). قد ذكرتُ إسلامَ أبي سُفيان في فتح مكة فيما تَقدَّم (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5108 - سكت عنه الذهبي في التلخيصمحمد بن عمر کہتے ہیں کہ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم، رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی اور آپ ﷺ کے چچا زاد تھے، انہیں سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے چند دن دودھ پلایا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ سے بہت مانوس تھے، پھر جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے دشمنی کی، آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کی ہجو کی، اور وہ بیس سال تک رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر ڈٹے رہے، وہ قریش کے کسی ایسے معرکے سے پیچھے نہیں رہے جو رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کے لیے گیا ہو، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے فتحِ مکہ کے لیے روانہ ہونے کا تذکرہ ہوا تو اللہ عزوجل نے ان کے دل میں اسلام ڈال دیا، چنانچہ وہ مقامِ ابواء پر پڑاؤ سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملے اور وہ اور ان کے بیٹے جعفر اسلام لے آئے، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مکہ کی طرف) نکلے اور فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شریک ہوئے، ابو سفیان کہتے ہیں: جب حنین کے دن ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں اپنے گھوڑے سے کود پڑا اور میرے ہاتھ میں بے نیام تلوار تھی، اللہ جانتا ہے کہ میں آپ ﷺ کے سامنے (آپ ﷺ کی حفاظت میں) موت چاہتا تھا جبکہ آپ ﷺ میری طرف دیکھ رہے تھے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے بھائی اور چچا زاد ابو سفیان بن حارث ہیں، ان سے راضی ہو جائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایسا ہی کیا، اللہ ان کی وہ تمام دشمنیاں معاف فرمائے جو انہوں نے مجھ سے کیں“، پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میری عمر کی قسم، یہ میرا بھائی ہے“، تو میں نے رکاب میں آپ ﷺ کے قدم مبارک کو چوم لیا۔ راوی کہتے ہیں: ابو سفیان بن حارث کی وفات مدینہ منورہ میں ان کے بھائی نوفل بن حارث کے چار ماہ الا تیرہ دن بعد ہوئی، اور کہا جاتا ہے کہ ان کی وفات سنہ 20 ہجری میں ہوئی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں بقیع میں عقیل بن ابی طالب کے گھر کے کونے میں دفن کیا گیا، وہ وہی ہیں جنہوں نے اپنی وفات سے تین دن پہلے خود اپنی قبر کھودی تھی۔
میں نے فتح مکہ کے بیان میں ابو سفیان کے اسلام لانے کا تذکرہ پہلے بھی کر دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: (1) یہ واقدی کی "المغازی" [2/ 806-809] میں ہے، اور اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" [4/ 45-46] میں اپنے قول سے ذکر کیا ہے (اپنے شیخ واقدی کا نام نہیں لیا، لیکن یہ انہی سے لیا گیا ہے کیونکہ یہ انہی کی عبارت ہے)۔
اہم نکتہ: پھر واقدی نے "المغازی" [2/ 810] میں ابو سفیان بن الحارث کے اسلام لانے کا اس سے مختلف ایک اور واقعہ ذکر کیا ہے، جو مصنف کے ہاں نمبر (4407) پر ابن عباس سے "حسن" سند کے ساتھ گزر چکا ہے۔ پس وہ روایت اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جو یہاں ہے، واللہ اعلم۔
(2) وهو في "طبقات ابن سعد" 4/ 49 أيضًا.
حوالہ / مصدر: (2) یہ "طبقات ابن سعد" [4/ 49] میں بھی ہے۔
(3) برقم (4407) من رواية ابن عباس، بإسناد حسنٍ.
نوٹ / توضیح: (3) (یہ روایت) نمبر (4407) پر ابن عباس کی روایت سے "حسن سند" کے ساتھ موجود ہے۔