کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی شہادت جنّات کے ہاتھوں ہونے کا بیان
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو مُسلم، حدثنا بَكّار بن محمد، حدثنا ابن عَوْن، عن محمد: أنَّ سعد بن عُبادة أتى سُبَاطةً قومٍ فبالَ قائمًا، فخَرَّ ميتًا، فقالت الجِنُّ: نحن قَتلْنا سيِّدَ ال … خَزْرجِ سعدَ بنَ عُبادَهُ ورَمَيناهُ بسَهْمَي … ن فلم نُخطِ فُؤادَهُ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5102 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5102 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ایک قوم کی کوڑی (کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ) پر آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر وہ اچانک مردہ ہو کر گر پڑے، تب جنات نے یہ (اشعار) کہے: ”ہم نے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا اور ہم نے انہیں دو ایسے تیر مارے جنہوں نے ان کے دل کا نشانہ خطا نہیں کیا۔“
أخبرنا محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن قَتَادة، قال: أقامَ سعدُ بنُ عُبادة لا يَبُول، ثم رَجَع، فقال: إني لأجِدُ في ظَهْري شيئًا، فلم يَلبَث أن مات، فناحَتِ الجنُّ فقالوا: نحن قَتلْنا سيِّدَ ال … خَزرجِ سَعْدَ بنَ عُبادَهُ ورَمَيناهُ بسَهْمي … نِ فلم نُخطِ فُؤادَهُ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5103 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5103 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
قتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر جب وہ واپس آئے تو کہنے لگے: ”میں اپنی کمر میں کچھ (تکلیف) محسوس کر رہا ہوں“، پھر وہ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ فوت ہو گئے، تو جنات نے نوحہ کرتے ہوئے کہا: ”ہم نے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا اور ہم نے انہیں دو ایسے تیر مارے جنہوں نے ان کے دل کا نشانہ خطا نہیں کیا۔“
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْلَ، حدثنا إسحاق بن الحسن ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا عَفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ حين بَلَغَه إقبالُ أبي سفيان، فتكلّم أبو بكر، فأعرضَ عنه، ثم تكلّم عُمر، فأعرضَ عنه، فقال سعدُ بن عُبادة: يا رسول الله، والذي نفسِي بيدِه لو أمرتَنا أن نَخُوضَ البحرَ لَخُضْناه (2)، ولو أمرتَنا أن نَضرِبَ أَكبادَها إلى بَرْك الغِمادِ لَفَعَلْنا، فَنَدَبَ رسولُ الله ﷺ الناسَ، فانطلَقُوا حتى نزلوا بدرًا (3). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5104 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5104 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ابوسفیان کے (تجارتی قافلے کی) آمد کی خبر پہنچی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلام کیا لیکن آپ ﷺ نے ان سے اعراض فرمایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کلام کیا تو آپ ﷺ نے ان سے بھی اعراض فرمایا، تب سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم دیں گے تو ہم اس میں کود جائیں گے، اور اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم سواریوں کے سینوں کو مارتے ہوئے (تیزی کے ساتھ) ”برک الغماد“ (انتہائی دور دراز مقام) تک لے جائیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو (تیاری کے لیے) پکارا اور وہ سب روانہ ہوئے یہاں تک کہ بدر کے مقام پر پڑاؤ کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔