حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: ومن بني زُهير: صفوان بن مَخْرَمة بن نَوفَل، وبه يُكنى مَخرمةُ، وهو أخو المِسوَر بن مَخرَمة، وأمُّه عاتِكةُ بنت عَوف أختُ عبد الرحمن بن عَوف.
حافظ طلحہ بابر
صفوان بن مخرمہ بن نوفل سے روایت ہے کہ وہ بنو زہیر سے تعلق رکھتے تھے، انہی کی نسبت سے ان کے والد مخرمہ کی کنیت (ابو صفوان) رکھی گئی تھی، وہ مسور بن مخرمہ کے بھائی ہیں اور ان کی والدہ عاتکہ بنت عوف ہیں جو کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔
حدثنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن عِصام، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا بَشير أبو إسماعيل: سمعت القاسم بن صفوان الزُّهْرِي يَذكُر عن أبيه وكانت له صحبة: أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أَبرِدُوا بصلاةِ الظُّهر، فإنَّ شدَّةَ الحَرِّ من فَوْرِ جَهَنَّمَ" (2). أخبرنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ قال: ذكرُ مناقب سَلَمة بن هشام بن المُغيرة بن عبد الله بن عُمَر بن مَخرُوم ﵁ - كان قديمَ الإسلام بمكة، وهاجَرَ إلى أرض الحَبَشة، ثم رجع إلى مكة، فحبسه أبو جهلٍ وضَرَبه وأجاعَه وعَطَّشَه، فكان رسولُ الله ﷺ يَدعُو له في الصلوات والقُنوت.
حافظ طلحہ بابر
قاسم بن صفوان زہری اپنے والد (صحابیِ رسول) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَبْرِدُوا بِصَلَاةِ الظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ» ”ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں (تاخیر سے) ادا کیا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے۔“
امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ فرماتے ہیں: یہ سلمہ بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر ہے، وہ مکہ میں قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے، انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر مکہ واپس آ گئے تو ابوجہل نے انہیں قید کر لیا، مارا پیٹا اور انہیں بھوکا پیاسا رکھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نمازوں اور قنوت میں ان کے حق میں دعا فرمایا کرتے تھے۔
امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ فرماتے ہیں: یہ سلمہ بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر ہے، وہ مکہ میں قدیم الاسلام صحابہ میں سے تھے، انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، پھر مکہ واپس آ گئے تو ابوجہل نے انہیں قید کر لیا، مارا پیٹا اور انہیں بھوکا پیاسا رکھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نمازوں اور قنوت میں ان کے حق میں دعا فرمایا کرتے تھے۔