کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: میں تم سب میں نسب کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں
أخبرنا بصِحّة ما ذكرتُه، أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُروة بن الزُّبَير، قال: كان فيمن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ من قريش والأنصار ثلاثُ مئةِ رجلٍ وثلاثةَ عشرَ رجلًا. قال: ومن بني عبد المُطّلب بن عبد مَنَافٍ عُبيدة والطُّفيل وحُصينٌ بنو الحارث بن عبد المطّلب (2). وقد اختَلفوا في رَبيعة بن الحارث فقيل: إنه عاشَ بعد ذلك وأدرَكَ أيامَ عمر بن الخطاب، وروى عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5076 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5076 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے قریش اور انصار کے کل تین سو تیرہ (313) افراد تھے، ان میں بنو عبد المطلب بن عبد مناف سے عبیدہ، طفیل اور حصین (حارث بن عبد المطلب کے بیٹے) شامل تھے۔ البتہ ربیعہ بن حارث کے متعلق اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ وہ اس کے بعد بھی زندہ رہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور پایا اور رسول اللہ ﷺ سے روایت بھی کی۔
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا ابن فُضيل، عن يزيد بن أبي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن رَبيعة بن الحارث بن عبد المُطَّلب قال: بلغ النبيَّ ﷺ أَنَّ قومًا نالُوا منه، وقالوا له: إنما مَثَلُ محمد كمَثَل نخلةٍ نَبَتَتْ في كُناسٍ، فغضب رسول الله ﷺ ثم قال: "أَيُّها الناسُ، إنَّ الله خَلَقَ خَلْقَه فجعلَهم فِرقَتين، فجعلَني في خير الفِرقَتين، ثم جعلَهم قَبائلَ، فجعلَني في خَيرِهم قبيلًا، ثم جعلَهم بُيوتًا، فجعلَني في خَيرِهم بيتًا"، قال رسول الله ﷺ: "أنا خَيرُكم قَبيلًا وخَيرُكم بيتًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5077 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5077 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگوں نے آپ کی شان میں گستاخی کی ہے اور کہا ہے «إنما مَثَلُ محمد كمَثَل نخلةٍ نَبَتَتْ فى كُناسٍ» ، تو رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پیدا کی تو انہیں دو گروہوں میں بانٹ دیا، اور مجھے بہترین گروہ میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین گھرانے میں رکھا،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں قبیلے اور گھرانے کے اعتبار سے تم سب میں بہترین ہوں۔“