کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی زرہ گروی رکھ کر سیدنا نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کا نکاح کرانا
حدثني أبو أحمد بن شعيب العَدْل، حدثنا أسَدُ بن نُوح، حدثنا هشام بن يحيى، حدثني محمد بن سعد، أخبرنا علي بن عيسى النَّوفَلي، قال: لما أُسر نَوفَلُ بن الحارث ببدرٍ قال له رسولُ الله ﷺ: "افْدِ نفسَك يا نَوفَل"، قال: ما لي شيءٌ أَفْدِي به يا رسول الله، قال: "افْدِ نفسَك برِماحِك التي بجُدَّةَ"، قال: أشهدُ أنك رسولُ الله (1)، ففَدَى نفسَه بها، وكانت ألفَ رُمْحٍ، قال: وآخى رسولُ الله ﷺ بين نَوفلٍ والعباسِ بن عبد المُطّلب، وكانا قبل ذلك شَرِيكَين في الجاهلية مُتفاوِضَين في المالَين مُتحابَّين، وشهدَ نوفلٌ مع رسولِ الله ﷺ فتحَ مكةَ وحُنينَ (2) والطائفَ، وثبت يوم حُنين مع رسول الله ﷺ، فقال رسولُ الله ﷺ: "كأني أنظُرُ إلى رِماحِك تَقْصِفُ في أصلابِ المُشرِكين" (3).
حافظ طلحہ بابر
علی بن عیسیٰ نوفلی سے روایت ہے کہ جب سیدنا نوفل بن الحارث رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں قیدی بنے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے نوفل! اپنا فدیہ دے کر جان چھڑاؤ“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس فدیہ دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ان نیزوں کے ذریعے فدیہ دو جو مقامِ جدہ میں رکھے ہوئے ہیں“، (یہ سن کر) انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں (کیونکہ نیزوں کا علم وحی کے بغیر ممکن نہ تھا)۔ چنانچہ انہوں نے انہی کے ذریعے اپنا فدیہ ادا کیا اور وہ ایک ہزار نیزے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نوفل اور عباس بن عبدالمطلب کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، اور وہ دونوں دورِ جاہلیت میں بھی ایک دوسرے کے شریکِ تجارت، مال میں برابر کے حصہ دار اور باہمی محبت رکھنے والے تھے۔ نوفل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ فتح مکہ، حنین اور طائف میں شریک ہوئے اور غزوہ حنین میں وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے نیزے مشرکین کی پیٹھوں کو توڑ رہے ہیں۔“
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدثنا حَسّان بن عبد الله، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا يونس بن يزيد، حدثنا ابن (4) إسحاق، عن سعيد بن الحارث، عن جدِّه نوفل بن الحارث بن عبد المطّلب: أنه استعانَ رسولَ الله ﷺ في التَّزويج، فأنكَحَه امرأةً، فالتمَسَ شيئًا فلم يَجِدْه، فبعثَ رسولُ الله ﷺ أبا رافع وأبا أيوب بدِرْعِه فرَهَنَاهُ عند رجلٍ من اليهود بثلاثين صاعًا من شَعير، فدفَعَه رسولُ الله ﷺ، فَطَعِمْنا منه نِصفَ سنةٍ، ثم كِلْناهُ فَوَجدْناهُ كما أدخَلْناه، قال نَوفلٌ: فذكرتُ لرسولِ الله ﷺ، فقال: "لو لم تَكِلْهُ لأكَلْتَ منه ما عِشْتَ" (1). وأما رَبيعةُ وعُبيدةُ بن الحارث بن عبد المطّلب والطُّفيلُ بن الحارث بن عبد المطّلب وحُصينُ بن الحارث، فإنهم قُتِلوا بين يدي رسول الله ﷺ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نوفل بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نکاح کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کی، تو آپ ﷺ نے ایک خاتون سے ان کا نکاح فرما دیا، جب (مہر یا اخراجات کے لیے) کچھ تلاش کیا تو نہ ملا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو رافع اور سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہما کے ہاتھ اپنی زرہ بھیجی اور اسے ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض رہن (گروی) رکھ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ جو انہیں عطا فرما دیے، ہم آدھا سال اس سے کھاتے رہے، پھر جب ہم نے اسے ناپا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا شروع میں تھا، نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اسے ناپتے نہیں تو جب تک تم زندہ رہتے اسی سے کھاتے رہتے۔“ اور رہے ربیعہ، عبیدہ، طفیل اور حصین (جو حارث بن عبد المطلب کے بیٹے تھے) تو وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے شہید ہوئے تھے۔