حدثنا بذلك أبو عبد الله بن بُطَّة، حدثنا الحسن بن الجَهْم، أخبرنا الحُسين ابن الفَرَج، عن محمد بن عُمر، قال: حدثني الجَحّاف بن عبد الرحمن من ولَدِ زيد بن الخطاب، عن أبيه، قال: كان زيدُ بن الخَطّاب يَحمِل رايةَ المسلمين يومَ اليَمامةِ، وقد انكشفَ المسلمون حتى غَلَبَت حَنيفةُ على الرِّجال، فجعل زيدُ بن الخَطّاب يقول: أمّا الرِّجالُ فلا رِجالَ، وأمّا الرِّجالُ فلا رِجالَ، ثم جعل يَصيحُ بأعلى صوتِه: اللهمَّ إني أعتذِرُ إليك من فِرار أصحابي، وأبْرأُ إليك ممّا جاء به مُسيلِمةُ ومُحكَّم (1) ابن الطُّفَيل، وجعل يَشَتَدُّ بالراية يتقدّمُ بها في نَحْرِ العَدوّ، ثم ضارَبَ بسيفِه، حتى قُتِل رحمةُ الله عليه، ووقعت الرايةُ فأخذَها سالمٌ مولى أبي حُذيفةَ، فقال المسلمون: يا سالمُ، أيُخَافُ أن نُؤْتَى من قِبَلِكَ؟ فقال: بِئسَ حاملُ القرآنِ أنا إن أُتِيتُم من قِبَلي. وقُتل زيدُ بن الخطّاب سنة اثنتي عشرةَ من الهجرة (2).
حافظ طلحہ بابر
جحاف بن عبدالرحمن جو کہ زید بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگِ یمامہ کے دن سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلمانوں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے، اس وقت مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ چکے تھے یہاں تک کہ بنو حنیفہ کے لوگ غالب آ گئے، تو زید بن خطاب پکارنے لگے: ”جہاں تک بہادروں کا تعلق ہے تو اب کوئی بہادر (جمنے والا) نہیں بچا، جہاں تک مردوں کا تعلق ہے تو اب کوئی مرد باقی نہیں رہا۔“ پھر انہوں نے نہایت بلند آواز سے پکار کر کہا: ”اے اللہ! میں اپنے ساتھیوں کے فرار پر تجھ سے معذرت خواہ ہوں اور مسیلمہ اور محکم بن طفیل جو (فتنہ و کفر) لائے ہیں اس سے اپنی براءت کا اظہار کرتا ہوں۔“ پھر وہ جھنڈا لے کر دشمن کے قلب میں گھس گئے اور اپنی تلوار سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، اللہ ان پر رحم فرمائے۔ جب جھنڈا گرا تو اسے سالم مولیٰ ابوحذیفہ نے تھام لیا، مسلمانوں نے کہا: اے سالم! کیا ہمیں یہ ڈر ہونا چاہیے کہ تمہاری طرف سے (شکست) آئے گی؟ انہوں نے جواب دیا: ”اگر تمہاری طرف سے مجھ پر حملہ ہو گیا (یعنی میں کمزور ثابت ہوا) تو میں کتنا برا حاملِ قرآن ہوں گا۔“ سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ سن 12 ہجری میں شہید ہوئے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، عن عبد الملك بن نَوفل بن مُساحِق، قال: كان ابن عمر خامسَ خمسةِ رُفْقةٍ في غَزاةِ مُسَيلِمةَ فقُتِلُوا غيرَه، قُتِلَ زيد بن الخَطَّاب وعبد الله بن مَخْرمةَ واثنان آخران (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5007 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5007 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبدالملک بن نوفل بن مساحق سے روایت ہے کہ جنگِ مسیلمہ کے موقع پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پانچ ساتھیوں کی ایک ٹولی میں شامل تھے جن میں سے ان کے علاوہ باقی سب شہید ہو گئے، ان میں سیدنا زید بن خطاب، سیدنا عبداللہ بن مخرمہ اور دو دیگر افراد شہید ہوئے۔