کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب سیدنا سالم رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو کہا گیا کہ قرآن کا ایک چوتھائی حصہ چلا گیا
حدثنا أبو الحسن محمد بن علي بن بَكْر العَدْل، حدثنا الحُسين بن الفَضْل، حدثنا عَفّان بن مُسلم، حدثنا حفص بن غِيَاث، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن أبي العُمَيس، عن أبي بكر بن عبد الله بن أبي الجَهْم، عن عُروة بن الزُّبَير، أنه قال: جعَلتْ أمُّ سالمٍ الأنصارية سالمًا مولى أبي حذيفة سائبةً لله، وإنه قُتل يومَ اليَمامة، ووَرِثَتْ سلاحًا وفرسًا، فأرسل إليها عمرُ بن الخطاب: أن خُذِيه، فأنت أحقُّ الناسِ به، فقالت: لا حاجةَ لي فيه، إني كنتُ جعلتُه لله تعالى حين أعتقتُه، فأخذه عمرُ فجعلُه في سبيلِ الله ﷿ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5003 - لم يصح ذا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5003 - لم يصح ذا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سالم مولیٰ ابوحذیفہ کی مالکن ثبیتہ بنت یعار انصاریہ نے سالم کو خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا تھا (تاکہ ان کی وراثت کا حق ان کی طرف نہ رہے)، پھر جب وہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے تو ترکے میں ایک ہتھیار اور ایک گھوڑا چھوڑا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کی طرف پیغام بھیجا کہ تم یہ ترکہ وصول کر لو کیونکہ تم ہی اس کی سب سے زیادہ حقدار ہو، انہوں نے جواب دیا: مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں، میں نے تو انہیں آزاد کرتے وقت ہی اللہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ سامان لے کر اسے اللہ کی راہ میں (مجاہدین کے لیے) وقف کر دیا۔
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أبي، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن الزُّهري، عن عُبيد بن السَّبّاق، عن زيد بن ثابت قال: لما قُتِل سالمٌ مولى أبي حُذيفةَ قالوا: ذهبَ رُبعُ القرآنِ (1). صحيحٌ على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (جنگِ یمامہ میں) سالم مولیٰ ابوحذیفہ شہید ہوئے تو صحابہ نے کہا کہ آج قرآن کا چوتھائی علم رخصت ہو گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔