المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَمَّا قُتِلَ سَالِمٌ قَالُوا ذَهَبَ رُبْعُ الْقُرْآنِ باب: جب سیدنا سالم رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو کہا گیا کہ قرآن کا ایک چوتھائی حصہ چلا گیا
حدیث نمبر: 5074
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أبي، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن الزُّهري، عن عُبيد بن السَّبّاق، عن زيد بن ثابت قال: لما قُتِل سالمٌ مولى أبي حُذيفةَ قالوا: ذهبَ رُبعُ القرآنِ (1). صحيحٌ على شرط الشيخين.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (جنگِ یمامہ میں) سالم مولیٰ ابوحذیفہ شہید ہوئے تو صحابہ نے کہا کہ آج قرآن کا چوتھائی علم رخصت ہو گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة، والزُّهري: هو محمد بن مسلم بن عُبيد الله. وانظر رواية إبراهيم بن بشار عن سفيان بن عيينة عند أبي بكر القَطيعي في زياداته على "فضائل الصحابة" لأحمد بن حنبل (591)، وأبي العباس أحمد بن المفرِّج الأُموي في "مشيخته البغدادية" (23).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / راویوں کی تعیین: یہاں "سفیان" سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں اور "زہری" سے مراد محمد بن مسلم بن عبیداللہ ہیں۔
حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے ابراہیم بن بشار کی روایت (جو وہ سفیان بن عیینہ سے کرتے ہیں) دیکھیں جو ابوبکر القطیعی نے احمد بن حنبل کی "فضائل الصحابہ" (591) کے زوائد میں اور ابوالعباس احمد بن المفرج الاموی نے "المشیخۃ البغدادیہ" (23) میں نقل کی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / راویوں کی تعیین: یہاں "سفیان" سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں اور "زہری" سے مراد محمد بن مسلم بن عبیداللہ ہیں۔
حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے ابراہیم بن بشار کی روایت (جو وہ سفیان بن عیینہ سے کرتے ہیں) دیکھیں جو ابوبکر القطیعی نے احمد بن حنبل کی "فضائل الصحابہ" (591) کے زوائد میں اور ابوالعباس احمد بن المفرج الاموی نے "المشیخۃ البغدادیہ" (23) میں نقل کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5074 سے ماخوذ ہے۔