کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے بدر میں شرکت کے بعد سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ کا سالم کو دودھ پلانا
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم، أخبرنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا موسى بن هارون البُرْدي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا حَنْظَلة بن أبي سفيان، أنه سمع عبد الرحمن بن سابِطٍ يُحدِّث عن عائشة، قالت: أبطأتُ ليلةً عن رسولِ الله ﷺ بعد العِشاء، ثم جئتُ، فقال لي: "أين كُنتِ؟ " قلت: كنا نَسمعُ قراءةَ رجلٍ من أصحابِك في المسجد، لم أسمع مثلَ صوته، ولا قراءةً من أحدٍ من أصحابِك، فقام وقمتُ معه، حتى استمعَ إليه، ثم التفتَ إليَّ فقال: "هذا سالمٌ مولى أبي حُذيفة، الحمدُ لله الذي جعلَ في أُمّتي مِثلَ هذا" (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتفقا (2) على حديث عُبيد الله عن نافع عن ابن عُمر: أنَّ المُهاجرين لما أقبَلُوا من مكةَ إلى المدينةِ كان يَؤُمُّهم سالم مولى أبي حُذيفة، لأنه كان أكثرَهم قرآنًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5001 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5001 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں کچھ دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم کہاں تھیں؟“ میں نے عرض کیا: میں مسجد میں آپ کے صحابہ میں سے ایک صاحب کی قراءت سن رہی تھی، میں نے ان جیسی خوش الحان آواز اور قراءت آپ کے صحابہ میں سے کسی اور سے نہیں سنی۔ پس آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ہمراہ چلی یہاں تک کہ آپ نے ان کی قراءت سماعت فرمائی، پھر میری طرف رخ کر کے فرمایا: ”یہ سالم مولیٰ ابوحذیفہ ہیں، اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ان جیسا صاحبِ کمال پیدا فرمایا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے عبید اللہ کی نافع سے اور ان کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت پر اتفاق کیا ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو مقامِ قباء میں سالم مولیٰ ابوحذیفہ ان کی امامت کرتے تھے کیونکہ وہ سب سے زیادہ علمِ قرآن کے حامل تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ انہوں نے عبید اللہ کی نافع سے اور ان کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت پر اتفاق کیا ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو مقامِ قباء میں سالم مولیٰ ابوحذیفہ ان کی امامت کرتے تھے کیونکہ وہ سب سے زیادہ علمِ قرآن کے حامل تھے۔
أخبرنا أبو العباس المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد ابن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، أنه سمع عَمْرةَ بنت عبد الرحمن تُحدِّث: أنَّ امرأةَ أبي حُذيفة ذَكَرَت. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثني أبي، حدثنا سُويد بن سعيد، حدثنا علي بن مُسهِر، عن يحيى بن سعيد، أنه سمع عَمْرة بنت عبد الرحمن تُحدِّث عن عائشة: أنَّ امرأة أبي حُذيفة ذَكَرتْ لرسولِ الله ﷺ دخولَ سالم مولى أبي حُذيفة عليها، فقال لها رسولُ الله ﷺ: "أرضِعِيه"، فأرضعَتْه بعد أن شَهِد بدرًا، فكان يَدخُل عليها (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5002 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5002 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے رسول اللہ ﷺ سے سالم مولیٰ ابوحذیفہ کے (گود لیے ہوئے بیٹے کی حیثیت سے) اپنے پاس بے تکلف آنے جانے کا تذکرہ کیا (جبکہ وہ بالغ ہو چکے تھے)، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم انہیں دودھ پلا دو“، چنانچہ انہوں نے سالم کے غزوہ بدر میں شریک ہونے کے بعد انہیں دودھ پلایا (تاکہ حرمتِ رضاعت قائم ہو سکے) اور پھر وہ ان کے پاس بلا جھجھک آیا جایا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔