حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني يزيد بن رُومان، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أمر بالقَلِيب فطُرِحُوا فيه، فوقفَ عليهم رسولُ الله ﷺ، فقال: "يا أهلَ القَلِيبِ، هل وَجَدتُم ما وَعَدَ رَبُّكم حقًّا؟ فإني وجدتُ ما وَعَدني ربي حقًّا"، فقال أصحابُه: يا رسول الله، تكلِّم أقوامًا مَوتَى؟ فقال: "لقد علموا أنَّ ما وعدكم ربُّكم حقٌّ"، فلما أمَرَ بهم فَسُحِبُوا، عُرِف في وجه أبي حُذيفةَ بن عُتبة الكراهيَةُ وأبوه يُسحَبُ إلى القَلِيب، فقال له رسولُ الله ﷺ: "يا أبا حذيفةَ، والله لكأنه ساءَكَ ما كان في أبيك؟ " فقال: والله يا رسول الله، ما شَكَكتُ في الله وفي رسول الله، ولكن أنْ كان حليمًا سديدًا ذا رأي، فكنتُ أرجُو أن لا يموتَ حتى يَهديَه الله ﷿ إلى الإسلام، فلما رأيتُ أن قد فاتَ ذلك ووَقَع حيث وَقَع، أحزَنَني ذلك، قال: فدعا له رسولُ الله ﷺ بخَيرٍ (3). حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ قُطْبةَ بن عامر الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4995 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4995 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (بدر کے مقتولین کے متعلق) حکم دیا تو انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے کنویں والو! کیا تم نے وہ پا لیا جس کا تمہارے رب نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا؟ کیونکہ میں نے تو وہ پا لیا جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔“ آپ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان لوگوں سے کلام فرما رہے ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اب علم ہو چکا ہے کہ تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل حق ہے۔“ پھر جب ان کے بارے میں حکم ہوا اور انہیں (گھسیٹ کر) لے جایا جانے لگا، تو جب ابوحذیفہ بن عتبہ کے والد (عتبہ) کو کنویں کی طرف گھسیٹا گیا تو ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ابوحذیفہ! اللہ کی قسم، ایسا لگتا ہے کہ تمہیں اپنے والد کے ساتھ ہونے والے اس معاملے سے دکھ پہنچا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول، مجھے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں (ان کے حق ہونے پر) کوئی شک نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ میرے والد ایک انتہائی بردبار، صائب الرائے اور صاحبِ بصیرت آدمی تھے، چنانچہ میں یہ تمنا رکھتا تھا کہ ان کی یہ فہم و فراست انہیں اسلام کی ہدایت تک لے آئے گی، مگر جب میں نے دیکھا کہ وہ موقع ضائع ہو گیا اور ان کا انجام وہی ہوا جو (کفر پر) ہونا تھا، تو اس بات نے مجھے رنجیدہ کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں خیر کی دعا فرمائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُرْوة، قال: وقُطبة بن عامر بن حَدِيدَة شَهِدَ مع رسول الله ﷺ بدرًا، وهو الذي أنزل فيه: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا﴾ [البقرة: 189]، وأخوه يزيد بن عامر بن حَديدة، ويُكنّى يزيدُ أبا المنذر (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اور یہی وہ صحابی ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا﴾ [سورة البقرة: 189] ”اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو۔“ نیز ان کے بھائی یزید بن عامر بن حدیدہ ہیں جن کی کنیت ابوالمنذر تھی۔
حدثنا أبو العباس، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن أشياخٍ من قومه: خرجَ رسولُ الله ﷺ في المَوسِم الذي لَقِيَه فيه النفرُ من الأنصار، فعَرَض نفسَه على قبائل العرب، ثم انصرفُوا عن رسول الله ﷺ راجِعين إلى بلادهم قد آمنُوا وصَدَّقوا، منهم قُطْبة بن عامر بن حَديدةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنی قوم کے مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج کے اس سیزن میں (تبلیغ کے لیے) باہر تشریف لائے جس میں آپ کی ملاقات انصار کے اس گروہ سے ہوئی، آپ ﷺ نے عرب قبائل کے سامنے حق کی دعوت پیش فرمائی، پھر وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اپنے علاقوں کی طرف اس حال میں واپس لوٹے کہ وہ ایمان لا چکے تھے اور آپ کی تصدیق کر چکے تھے، ان مخلصین میں سیدنا قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔