حدیث نمبر: 5065
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، أخبرني يزيد بن رُومان، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أمر بالقَلِيب فطُرِحُوا فيه، فوقفَ عليهم رسولُ الله ﷺ، فقال: "يا أهلَ القَلِيبِ، هل وَجَدتُم ما وَعَدَ رَبُّكم حقًّا؟ فإني وجدتُ ما وَعَدني ربي حقًّا"، فقال أصحابُه: يا رسول الله، تكلِّم أقوامًا مَوتَى؟ فقال: "لقد علموا أنَّ ما وعدكم ربُّكم حقٌّ"، فلما أمَرَ بهم فَسُحِبُوا، عُرِف في وجه أبي حُذيفةَ بن عُتبة الكراهيَةُ وأبوه يُسحَبُ إلى القَلِيب، فقال له رسولُ الله ﷺ: "يا أبا حذيفةَ، والله لكأنه ساءَكَ ما كان في أبيك؟ " فقال: والله يا رسول الله، ما شَكَكتُ في الله وفي رسول الله، ولكن أنْ كان حليمًا سديدًا ذا رأي، فكنتُ أرجُو أن لا يموتَ حتى يَهديَه الله ﷿ إلى الإسلام، فلما رأيتُ أن قد فاتَ ذلك ووَقَع حيث وَقَع، أحزَنَني ذلك، قال: فدعا له رسولُ الله ﷺ بخَيرٍ (3). حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ قُطْبةَ بن عامر الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4995 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (بدر کے مقتولین کے متعلق) حکم دیا تو انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے کنویں والو! کیا تم نے وہ پا لیا جس کا تمہارے رب نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا؟ کیونکہ میں نے تو وہ پا لیا جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔“ آپ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان لوگوں سے کلام فرما رہے ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اب علم ہو چکا ہے کہ تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل حق ہے۔“ پھر جب ان کے بارے میں حکم ہوا اور انہیں (گھسیٹ کر) لے جایا جانے لگا، تو جب ابوحذیفہ بن عتبہ کے والد (عتبہ) کو کنویں کی طرف گھسیٹا گیا تو ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ابوحذیفہ! اللہ کی قسم، ایسا لگتا ہے کہ تمہیں اپنے والد کے ساتھ ہونے والے اس معاملے سے دکھ پہنچا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول، مجھے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں (ان کے حق ہونے پر) کوئی شک نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ میرے والد ایک انتہائی بردبار، صائب الرائے اور صاحبِ بصیرت آدمی تھے، چنانچہ میں یہ تمنا رکھتا تھا کہ ان کی یہ فہم و فراست انہیں اسلام کی ہدایت تک لے آئے گی، مگر جب میں نے دیکھا کہ وہ موقع ضائع ہو گیا اور ان کا انجام وہی ہوا جو (کفر پر) ہونا تھا، تو اس بات نے مجھے رنجیدہ کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں خیر کی دعا فرمائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5065
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صحَّ عن عائشة من وجه آخر كما تقدَّم برقم (3569) لكن دون قصة أبي حذيفة بن عُتبة.» [ترقيم الرساله 5065] [ترقيم الشركة 5027] [ترقيم العلميه 4995]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صحَّ عن عائشة من وجه آخر كما تقدَّم برقم (3569) لكن دون قصة أبي حذيفة بن عُتبة.
درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
متابعات و شواہد: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت ایک اور صحیح طریق سے (نمبر 3569 پر) گزری ہے، مگر اس میں ابوحذیفہ بن عتبہ کا قصہ موجود نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26361) من طريق إبراهيم بن سعد، وابن حبان (7088) من طريق جرير بن حازم، كلاهما عن محمد بن إسحاق، به. لكن إبراهيم بن سعد لم يذكر في روايته قصة أبي حذيفة بن عُتبة. وقد ذكر زيادٌ البكّائي كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 639 هذه القصة عن ابن إسحاق بلاغًا، وكذلك جاء في رواية سلمة بن الفضل عن ابن إسحاق عند الطبري في "تاريخه" 2/ 457، فلم يذكر قصة أبي حذيفة عن ابن إسحاق موصولة إلّا يونُس بنُ بُكَير وجريرُ بنُ حازم.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (43/26361) اور ابن حبان (7088) نے جریر بن حازم عن محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن اسحاق سے ابوحذیفہ بن عتبہ کا یہ قصہ صرف یونس بن بکیر اور جریر بن حازم نے ہی "موصول" بیان کیا ہے، جبکہ دیگر نے اسے "بلاغاً" (بغیر سند) ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5065 سے ماخوذ ہے۔