أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثقَفي، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وهب بن جَرير، حدثني أبي، سمعت محمدَ بن إسحاق يُحدِّث عن العباس بن مَعبَد، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قُتِل أبو حذيفةَ ابن عُتبة بن رَبيعة يومَ اليمامةِ شهيدًا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ جنگِ یمامہ کے دن جامِ شہادت نوش کر گئے۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجَبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن مَعبَد، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ قال يومَ بدرٍ: "مَن لَقيَ منكم العباسَ فليَكفُفْ عنه، فإنه خَرجَ مُستَكْرَهًا"، فقال أبو حُذيفة بن عُتبة: أنقتُلُ آبَاءَنا وإخوانَنا وعَشائرَنا ونَدَعُ العباسَ؟! واللهِ لأُلحِمَنَّه (2) بالسيف، فبلَغَتْ رسولَ الله ﷺ، فقال لعمر بن الخطاب: "يا أبا حفص" قال عُمر: إنه لأوّلُ يوم كَنّاني فيه بحفص "أيُضرَبُ وجهُ عَمِّ رسولِ الله بالسَّيف؟ " فقال عمر: دَعْني فَلْأضْرِبْ عُنُقَه، فإنه قد نافَقَ. وكان أبو حذيفة يقول: ما أنا بآمِنٍ من تلك الكلمة التي قلتُ، ولا أزالُ خائفًا حتَّى يُكفِّرَها اللهُ عني بالشهادة، قال: فقُتِل يومَ اليمامة شهيدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا: ”تم میں سے جس کی ملاقات (میرے چچا) عباس سے ہو وہ انہیں قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبور کر کے نکالے گئے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم اپنے باپوں، بھائیوں اور قبیلے والوں کو تو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں؟! اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے ملے تو میں انہیں اپنی تلوار کی خوراک بنا دوں گا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوحفص!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ پہلا دن تھا جب آپ ﷺ نے مجھے میری کنیت ابوحفص سے پکارا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا رسول اللہ کے چچا کے چہرے پر تلوار ماری جائے گی؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) مجھے چھوڑئیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں کیونکہ یہ منافق ہو گیا ہے۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ (بعد میں ندامت سے) کہا کرتے تھے کہ میں اس جملے کی وجہ سے جو میں نے اس دن کہا تھا، خود کو کبھی مامون نہیں سمجھتا اور مسلسل ڈرتا رہتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ شہادت کے ذریعے اس کا کفارہ فرما دے، چنانچہ وہ جنگِ یمامہ کے دن شہید ہو گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا يحيى بن عثمان بن صالح، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي زُرعة عمرو (2) بن جابر، عن سليمان بن مِهران، عن شَقِيق بن سَلَمة، عن ابن عباس: أنَّ معاوية دخَلَ على أبي حُذيفة بن عُتبة بن رَبيعة فوجده يَبكي، فقال: ما يُبكيك، أوجَعٌ أو حِرصٌ على الدنيا؟ فقال: كلّا، إني سمعتُ رسول الله ﷺ عَهِدَ إلى عهدًا، فقلتُ: ما هو؟ قال: قال رسول الله ﷺ: "لَعلّك يُدرِكُك زمانٌ وسَيَجمعُون جَمْعًا وأنت فيه"، وإني قد كنتُ فيه (3). وصلَّى الله على محمدٍ وآله وسلَّم. في هذا الحديث وهمٌ فاحشٌ، وهو أنَّ أبا حُذيفة عُتبة بن ربيعة استُشهِد قبل أن يُسلَّمَ معاويةُ (1)، وإنما قال معاويةُ هذا القولَ لعمِّه (2) أبي هاشم بن عُتبة بن ربيعة يومَ صِفّين (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے پاس گئے تو انہیں روتے ہوئے پایا، انہوں نے پوچھا: ”آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے، کیا کوئی تکلیف ہے یا دنیا کی حرص؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہرگز نہیں، بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مجھ سے ایک عہد کرتے ہوئے سنا تھا“، میں نے پوچھا: وہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”شاید تم ایسا زمانہ پاؤ گے کہ لوگ (دنیا کے لیے) جتھہ بندی کریں گے اور تم بھی اس میں شامل ہو گے“، اور (مجھے رونا اس لیے آ رہا ہے کہ) میں یقیناً اس میں شامل رہا ہوں۔
اس حدیث میں ایک فاش غلطی (وہم) ہے، وہ یہ کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ تو معاویہ کے اسلام لانے (یا ان کے باقاعدہ سماجی و سیاسی طور پر مستحکم ہونے) سے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، دراصل معاویہ نے یہ بات اپنے چچا ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ سے جنگِ صفین کے موقع پر کہی تھی۔
اس حدیث میں ایک فاش غلطی (وہم) ہے، وہ یہ کہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ تو معاویہ کے اسلام لانے (یا ان کے باقاعدہ سماجی و سیاسی طور پر مستحکم ہونے) سے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، دراصل معاویہ نے یہ بات اپنے چچا ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ سے جنگِ صفین کے موقع پر کہی تھی۔