حدیث نمبر: 5058
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجَبّار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن مَعبَد، عن أبيه، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ قال يومَ بدرٍ: "مَن لَقيَ منكم العباسَ فليَكفُفْ عنه، فإنه خَرجَ مُستَكْرَهًا"، فقال أبو حُذيفة بن عُتبة: أنقتُلُ آبَاءَنا وإخوانَنا وعَشائرَنا ونَدَعُ العباسَ؟! واللهِ لأُلحِمَنَّه (2) بالسيف، فبلَغَتْ رسولَ الله ﷺ، فقال لعمر بن الخطاب: "يا أبا حفص" قال عُمر: إنه لأوّلُ يوم كَنّاني فيه بحفص "أيُضرَبُ وجهُ عَمِّ رسولِ الله بالسَّيف؟ " فقال عمر: دَعْني فَلْأضْرِبْ عُنُقَه، فإنه قد نافَقَ. وكان أبو حذيفة يقول: ما أنا بآمِنٍ من تلك الكلمة التي قلتُ، ولا أزالُ خائفًا حتَّى يُكفِّرَها اللهُ عني بالشهادة، قال: فقُتِل يومَ اليمامة شهيدًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا: ”تم میں سے جس کی ملاقات (میرے چچا) عباس سے ہو وہ انہیں قتل نہ کرے کیونکہ وہ مجبور کر کے نکالے گئے ہیں۔“ یہ سن کر سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم اپنے باپوں، بھائیوں اور قبیلے والوں کو تو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں؟! اللہ کی قسم، اگر وہ مجھے ملے تو میں انہیں اپنی تلوار کی خوراک بنا دوں گا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابوحفص!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ پہلا دن تھا جب آپ ﷺ نے مجھے میری کنیت ابوحفص سے پکارا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا رسول اللہ کے چچا کے چہرے پر تلوار ماری جائے گی؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) مجھے چھوڑئیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں کیونکہ یہ منافق ہو گیا ہے۔ سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ (بعد میں ندامت سے) کہا کرتے تھے کہ میں اس جملے کی وجہ سے جو میں نے اس دن کہا تھا، خود کو کبھی مامون نہیں سمجھتا اور مسلسل ڈرتا رہتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ شہادت کے ذریعے اس کا کفارہ فرما دے، چنانچہ وہ جنگِ یمامہ کے دن شہید ہو گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5058
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسنٌ كسابقه
تخریج حدیث «إسناده حسنٌ كسابقه،» [ترقيم الرساله 5058] [ترقيم الشركة 5020]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز): لأدعنَّه، ونظنها محرفة عن لأُلحِمَنَّه، ولأنَّ الدَّعَّ هو الدفع الشديد، ولا يناسبه ذكر السَّيف، ولهذا ضُبِّب، فوقها، وبُيّض لهذه الكلمة في (ص) و (م)، والمثبت من "دلائل النبوة" للبيهقي 3/ 140 حيث روى هذا الخبر عن أبي عبد الله الحاكم بسنده هذا الذي هنا، وهو الموافق لرواية بعض من خرَّج هذا الحديث. ومعناه: لأقتلنّه كأنه جُعِل لحمًا. ورواه بعضهم بالجيم بدلٌ الحاء.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) میں "لأدعنہ" لکھا ہے جو کہ "لألحمنہ" کی تحریف لگتی ہے، کیونکہ تلوار کے ذکر کے ساتھ "دع" (زور سے دھکا دینا) مناسب نہیں۔ بیہقی (3/140) کے مطابق درست لفظ "لألحمنہ" ہے جس کا مطلب ہے: "میں اسے ضرور قتل کر دوں گا یہاں تک کہ وہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے"۔ بعض نے اسے جیم (الجمنہ) کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔
(1) إسناده حسنٌ كسابقه.
درجۂ حدیث: پچھلی سند کی طرح یہ بھی "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 140 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد غير أنه قال فيه: عن العباس بن عبد الله بن مَعْبَد، عن بعض أهله، عن عبد الله بن عباس.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/140) میں امام حاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر وہاں "عن بعض اہلہ" کے الفاظ ہیں۔
وكذلك أخرجه ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 628 - 629، وابن سعد في "طبقاته الكبرى" 4/ 10، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 513، والطبري في "تاريخه" 2/ 449 - 450 من طرق عن محمد بن إسحاق، عن العباس بن عبد الله بن معبد، عن بعض أهله، عن ابن عباس.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ہشام (1/628)، ابن سعد (4/10)، یعقوب بن سفیان (1/513) اور طبری (2/449) نے مختلف طرق سے ابن اسحاق عن العباس بن عبد اللہ عن بعض اہلہ عن ابن عباس کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5058 سے ماخوذ ہے۔