کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کسی لشکر میں بھیجا تو انہیں ہی امیر مقرر فرمایا
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُروة، قال: بَعَثَ رسولُ الله ﷺ بَعْثَه إلى مُؤتة، فقاتل زيدُ بنُ حارثة برايةِ رسول الله ﷺ في جُمادى الأُولى سنةَ ثمانٍ، حتَّى شاطَ في رِماحٍ القوم، ثم أخذَها جعفرُ بنُ أبي طالب (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4952 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4952 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا، تو جمادی الاول سن 8 ہجری میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا تھام کر (بہادری سے) لڑے یہاں تک کہ وہ دشمن کے نیزوں کی زد میں آکر تڑپ تڑپ کر شہید ہو گئے، پھر وہ جھنڈا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا۔
أخبرنا أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الزاهد، حَدَّثَنَا سَهْل بن عمّار العَتَكي، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسي، حَدَّثَنَا وائل بن داود، سمعت البَهِيَّ يُحدِّث: أَنَّ عائشةَ كانت تقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ زيدَ بنَ حارثة في جيشٍ إلَّا أمَّرَه، ولو بقيَ بعدَه لاستَخْلفَه (1). صحيحُ الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو جس لشکر میں بھی بھیجا انہیں اس کا امیر ہی مقرر فرمایا، اور اگر وہ آپ ﷺ کے بعد حیات رہتے تو آپ ﷺ انہیں اپنا خلیفہ (جانشین) مقرر فرماتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تَلُومُونا على حُبِّ زَيدٍ"؛ يعني: ابنَ حارثةَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمیں زید (بن حارثہ) کی محبت پر ملامت نہ کرو۔“
قال إسماعيلُ: وسمعتُ الشعبي يقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ سَريّةً قَطُّ وفيهم زيدُ بنُ حارثة إِلَّا أَمَّرَه عليهم (2).
حافظ طلحہ بابر
امام شعبی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جب بھی کوئی سریہ (لشکر) روانہ فرمایا اور اس میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ موجود ہوتے تو آپ ﷺ انہیں ہی ان پر امیر مقرر فرماتے۔