المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ قِصَّةِ إِسْلَامِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ بِلِسَانِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ باب: سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خود سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی زبانی ان کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 5021
حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن بُطّة، حَدَّثَنَا الحسن، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني عائذُ بن يحيى، عن أبي الحُوَيرِث، عن محمد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: قال رسول الله: "خيرُ أمراءِ السَّرايا زيدُ بنُ حارثة، أقسَمُهم بالسَّوِيّة، وأعدَلُهم في الرَّعِيّة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4955 - في سنده الواقديحافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لشکروں کے بہترین امیر زید بن حارثہ ہیں، وہ (مالِ غنیمت کو) سب سے زیادہ برابری کے ساتھ تقسیم کرنے والے اور اپنی رعایا کے حق میں سب سے زیادہ انصاف کرنے والے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا، تفرَّد به محمد بن عمر - وهو الواقدي - وفيه مقال معروف، ولا يعتدُّ بما يتفرَّد به، وشيخه عائذ بن يحيى قد أكثر عنه الواقدي، ولكنه مجهول لا يُدرى من هو، وأبو الحويرث - واسمه عبد الرحمن بن معاوية الزُّرَقي - مختلفٌ فيه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ محمد بن عمر (واقدی) اس میں منفرد ہیں اور ان میں معروف کلام (جرح) ہے، ان کی تفردات کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ ان کے شیخ "عائذ بن یحییٰ" سے واقدی نے کثرت سے روایت کی ہے مگر وہ "مجہول" ہیں (پتہ نہیں کون ہیں)، اور ابو الحویرث (عبدالرحمن بن معاویہ الزرقی) مختلف فیہ ہیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ محمد بن عمر (واقدی) اس میں منفرد ہیں اور ان میں معروف کلام (جرح) ہے، ان کی تفردات کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ ان کے شیخ "عائذ بن یحییٰ" سے واقدی نے کثرت سے روایت کی ہے مگر وہ "مجہول" ہیں (پتہ نہیں کون ہیں)، اور ابو الحویرث (عبدالرحمن بن معاویہ الزرقی) مختلف فیہ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5021 سے ماخوذ ہے۔