❮
❯
حدیث نمبر: 5020
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عُمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تَلُومُونا على حُبِّ زَيدٍ"؛ يعني: ابنَ حارثةَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4954 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمیں زید (بن حارثہ) کی محبت پر ملامت نہ کرو۔“

قال إسماعيلُ: وسمعتُ الشعبي يقول: ما بَعَثَ رسولُ الله ﷺ سَريّةً قَطُّ وفيهم زيدُ بنُ حارثة إِلَّا أَمَّرَه عليهم (2).
حافظ طلحہ بابر

امام شعبی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جب بھی کوئی سریہ (لشکر) روانہ فرمایا اور اس میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ موجود ہوتے تو آپ ﷺ انہیں ہی ان پر امیر مقرر فرماتے۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسلٌ صحيحٌ
تخریج حدیث «إسناده مرسلٌ صحيحٌ، وقيس بن أبي حازم تابعيّ كبير مخضرم.» [ترقيم الرساله 5020] [ترقيم الشركة 4985] [ترقيم العلميه 4954]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده مرسلٌ صحيحٌ، وقيس بن أبي حازم تابعيّ كبير مخضرم.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "مرسل صحیح" ہے۔ قیس بن ابی حازم کبار تابعین میں سے ہیں اور "مخضرم" (جنہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانے پائے) ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5020 سے ماخوذ ہے۔