حدیث نمبر: 4996
حَدَّثَنَا أبو محمد المُزَني، حَدَّثَنَا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا عبد الله بن بَرَّاد الأشعَري، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جدِّه، قال: أخبرني أبي الذي كان أرضعَني من بني مُرّةَ، قال: كأني أنظُر إلى جعفرِ بن أبي طالب يومَ مُؤتةَ نَزَل عن فرسٍ له فعَرْقَبَها، ثم مضى فقاتَل حتَّى قُتِل (1).
حافظ طلحہ بابر

یحییٰ بن عباد بن عبداللہ اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مرہ کے اس شخص نے بتایا جس نے مجھے دودھ پلایا تھا کہ گویا میں جعفر بن ابی طالب کو غزوہ موتہ کے دن دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے گھوڑے سے اترے، اس کی کوچیں کاٹ دیں اور پھر دشمن کی طرف بڑھے اور قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4996
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرّح بسماعه هذا الحديث من يحيى بن عبّاد عند غير واحدٍ ممن خرَّجه وما وقع في رواية عبد الله بن إدريس هنا عند المصنّف وعند غير واحدٍ ممن خرَّج الحديث من طريقه من قوله: عن جده، فهو إما وهمٌ لأنَّ سائر مَن ...» [ترقيم الرساله 4996] [ترقيم الشركة 4962]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرّح بسماعه هذا الحديث من يحيى بن عبّاد عند غير واحدٍ ممن خرَّجه وما وقع في رواية عبد الله بن إدريس هنا عند المصنّف وعند غير واحدٍ ممن خرَّج الحديث من طريقه من قوله: عن جده، فهو إما وهمٌ لأنَّ سائر مَن روى هذا الحديث عن ابن إسحاق غير عبد الله بن إدريس لم يذكروا الجَدّ، وهو عبد الله بن الزبير بن العوام، لكنهم جعلوه من رواية عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه الذي أرضعه من بني مرة، ولهذا أورده المزيُّ في "تحفة الأشراف" (15602) في ترجمة عباد عن أبيه الذي أرضعه. وإما أن يكون المراد بجدّه هو جدُّه من الرضاعة، ويكون المعنى بقوله: عن جده: عن قصة جده الذي أرضَعَه، وقد جرى استعمال بعض المحدثين لمثل ذلك التعبير فتتفق الروايات، والله أعلم.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے، انہوں نے یحییٰ بن عباد سے اپنے سماع کی تصریح کی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں عبداللہ بن ادریس کی روایت میں جو "عن جدہ" (اپنے دادا سے) کے الفاظ آئے ہیں، یہ یا تو وہم ہے (کیونکہ ابن اسحاق کے دیگر شاگردوں نے دادا یعنی عبداللہ بن زبیر ؓ کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عباد بن عبداللہ بن زبیر کی "اپنے رضاعی باپ" سے روایت قرار دیا ہے، جیسا کہ مزی نے "تحفۃ الاشراف": (15602) میں کیا)۔ یا پھر "جدہ" سے مراد "رضاعی دادا" ہوں اور مطلب یہ ہو کہ "اپنے اس دادا کے بارے میں جس نے اسے دودھ پلایا"۔ بعض محدثین کا ایسا اسلوب رہا ہے۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه أبو داود (2573) من طريق محمد بن سَلَمة الحراني، عن ابن إسحاق، حدثني ابن عباد، عن أبيه عبّاد بن عبد الله بن الزبير، قال: حدثني أبي الذي أرضعني. وقال أبو داود: هذا الحديث ليس بالقوي، وإنما ضعَّفه أبو داود مع قوة إسناده ظنًّا منه أنَّ فيه إتلاف المال، وهو منهيّ عنه، فقد ذكر السهارنفوري في "شرحه" 7/ 115 أنه وقع في بعض نسخ أبي داود زيادة قوله: وقد جاء فيه نهيٌ كثيرٌ عن أصحاب النَّبِيّ ﷺ. قلنا: أسند هذه الزيادة البيهقي 9/ 87 عن أبي داود.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد: (2573) نے محمد بن سلمہ الحرانی > ابن اسحاق > ابن عباد > عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ "مجھے میرے اس باپ نے بیان کیا جس نے مجھے دودھ پلایا"۔
اہم نکتہ: ابو داؤد نے فرمایا: "یہ حدیث قوی نہیں ہے"۔ انہوں نے اسے سند کے قوی ہونے کے باوجود اس لیے ضعیف کہا کیونکہ انہیں لگا کہ اس میں "مال ضائع کرنے" کا ذکر ہے جو منع ہے۔ سہارنپوری نے شرح میں ذکر کیا کہ ابو داؤد کے بعض نسخوں میں یہ اضافہ ہے: "اور اس بارے میں صحابہ سے بہت ممانعت آئی ہے"۔ ہم کہتے ہیں: بیہقی 9/ 87 نے اس اضافے کو ابو داؤد سے مسند (سند کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4996 سے ماخوذ ہے۔