کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرئ القیس بن زید بن عبد الاشہل رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ کی شہادت اور بنی قریظہ کے بارے میں آپ کا فیصلہ
حَدَّثَنَا بذلك أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، عن شُيوخه (3). ذكرُ مناقب سعد بن خَيْثمة (1) وكان من النُّقَباء.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ سعد بن خیثمہ کے مناقب جو نُقباء میں سے تھے۔
حدثني محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حَدَّثَنَا محمد بن الصَّبّاح، حَدَّثَنَا سفيان، قال: النُّقباء اثنا عشر رجلًا منهم سعد بن عُبادة وسعد بن الربيع وسعد بن خَيثمة، فذكرهم (2).
حافظ طلحہ بابر
سفیان سے روایت ہے کہ نُقباء بارہ آدمی تھے جن میں سعد بن عبادہ، سعد بن ربیع اور سعد بن خیثمہ شامل تھے، پھر انہوں نے باقیوں کا تذکرہ کیا۔
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروزَي، حَدَّثَنَا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا رجل، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، أنَّ سليمان بن أبان حدثه عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ لما خرج إلى بدرٍ أراد سعد بن خَيثمة وأبوه جميعًا الخروجَ معه، فذكرنا ذلك للنبي ﷺ، فأمر أن يخرُج أحدهما، فاستَهَمَا، فخرج سعدٌ مع النَّبِيّ ﷺ إلى بدرٍ، فقُتل ببدرٍ، ثم قُتل خيثمة من العام المُقبل يوم أُحُدٍ (1). ذكر مناقب سعد بن مُعاذ بن النُّعمان بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الأشْهَل الخَزْرجي (2) الأنصاري وكان سعدٌ يُكنى أبا عمرو، وكان لواءُ الأَوس معه يوم الخندق، فرُمي في أَكْحَلِه بسهمٍ فقُطِع ونَزَف، وذلك في سنة خمس من الهجرة:
حافظ طلحہ بابر
سلیمان بن ابان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے تو سعد بن خیثمہ اور ان کے والد دونوں نے ساتھ نکلنے کا ارادہ کیا، اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان میں سے کوئی ایک جائے، پس انہوں نے قرعہ اندازی کی، قرعہ سعد کے نام نکلا اور وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدر گئے اور وہیں شہید ہو گئے، پھر ان کے والد خیثمہ اگلے سال احد کے دن شہید ہوئے۔
حَدَّثَنَا بذلك أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن شُيوخه (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے سعد بن معاذ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ وہ خزرجی انصاری تھے، ان کی کنیت ابوعمرو تھی، غزوہ خندق کے دن قبیلہ اوس کا جھنڈا ان کے پاس تھا، انہیں بازو کی رگ (اکحل) میں تیر لگا جس سے وہ کٹ گئی اور خون بہنے لگا، یہ ہجرت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے۔
حَدَّثَنَا أبو الحسن بن أحمد بن شَبَّوَيهِ الرئيس بمَرْو، حَدَّثَنَا جعفر بن محمد النَّيْسابُوري، حَدَّثَنَا علي بن مِهْران، حَدَّثَنَا سلمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن عبد الله بن كعب بن مالك، أنه قال: إنَّ الذي رمى سعدَ بنَ معاذ يوم الخَنْدق حِبّانُ بن قيس ابن العَرِقةِ أحدُ بني عامر بن لؤي، فلما أصابه قال: خُذْها وأنا ابن العَرِقة. فقال سعدٌ: عَرّق اللهُ وجهَك في النارِ، ثم عاشَ سعدٌ بعدما أصابه سهمٌ نحوًا من شهرٍ، حتَّى حَكَمَ في بني قُريظَة بأمرِ رسولِ الله ﷺ، ورجع إلى مدينةِ رسول الله ﷺ، ثم انفَجَر كَلْمُه فماتَ ليلًا، فأتى جبريلُ ﵇ رسولَ الله ﷺ، فقال له: مَن هذا الذي فُتحت له أبوابُ السماءِ، واهتزَّ له عرشُ الرحمن؟ فخرج النَّبِيّ ﷺ إلى سعدٍ، فوجدَه قد مات (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4921 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4921 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دن سعد بن معاذ کو تیر مارنے والا بنو عامر بن لوئی کا حبان بن قیس بن عرقہ تھا، جب اس نے تیر مارا تو کہا: اسے پکڑو، میں ابن عرقہ ہوں، سعد نے کہا: ”اللہ تیرے چہرے کو آگ میں جھلسائے“، پھر سعد اس زخم کے بعد تقریباً ایک ماہ تک زندہ رہے یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ کیا اور مدینہ واپس آئے، پھر ان کا زخم پھٹ گیا اور رات کے وقت ان کا انتقال ہو گیا، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”یہ کون ہے جس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور جس کے لیے عرشِ رحمان ہل اٹھا؟“ پس نبی کریم ﷺ سعد کے پاس تشریف لائے تو انہیں وفات یافتہ پایا۔