حدیث نمبر: 4983
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروزَي، حَدَّثَنَا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا رجل، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هلال، أنَّ سليمان بن أبان حدثه عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ لما خرج إلى بدرٍ أراد سعد بن خَيثمة وأبوه جميعًا الخروجَ معه، فذكرنا ذلك للنبي ﷺ، فأمر أن يخرُج أحدهما، فاستَهَمَا، فخرج سعدٌ مع النَّبِيّ ﷺ إلى بدرٍ، فقُتل ببدرٍ، ثم قُتل خيثمة من العام المُقبل يوم أُحُدٍ (1). ذكر مناقب سعد بن مُعاذ بن النُّعمان بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الأشْهَل الخَزْرجي (2) الأنصاري وكان سعدٌ يُكنى أبا عمرو، وكان لواءُ الأَوس معه يوم الخندق، فرُمي في أَكْحَلِه بسهمٍ فقُطِع ونَزَف، وذلك في سنة خمس من الهجرة:
حافظ طلحہ بابر

سلیمان بن ابان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے تو سعد بن خیثمہ اور ان کے والد دونوں نے ساتھ نکلنے کا ارادہ کیا، اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ ان میں سے کوئی ایک جائے، پس انہوں نے قرعہ اندازی کی، قرعہ سعد کے نام نکلا اور وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدر گئے اور وہیں شہید ہو گئے، پھر ان کے والد خیثمہ اگلے سال احد کے دن شہید ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4983
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي إن شاء الله كما تقدَّم بيانه برقم (4927)
تخریج حدیث «حديث قوي إن شاء الله كما تقدَّم بيانه برقم (4927)، غير أنَّ ذكر والد سليمان بن أبان في هذا السند غريب، والغالب أنه وهمٌ، فلم يرد ذكره عند مكرره المتقدِّم، ولا في غيره من المصادر التي خرَّجت هذا الخبر، ولم يذكره أحدٌ لا في الصحابة ولا في التابعين، إنما المعروف ...» [ترقيم الرساله 4983]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث قوي إن شاء الله كما تقدَّم بيانه برقم (4927)، غير أنَّ ذكر والد سليمان بن أبان في هذا السند غريب، والغالب أنه وهمٌ، فلم يرد ذكره عند مكرره المتقدِّم، ولا في غيره من المصادر التي خرَّجت هذا الخبر، ولم يذكره أحدٌ لا في الصحابة ولا في التابعين، إنما المعروف رواية هذا الخبر عن سليمان بن أبان بن أبي حُدير مرسلًا.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث ان شاء اللہ "قوی" ہے جیسا کہ نمبر (4927) میں بیان ہوا۔
فنی نکتہ / علّت: البتہ اس سند میں سلیمان بن ابان کے "والد" کا ذکر غریب ہے، اور غالب گمان ہے کہ یہ "وہم" ہے۔ کیونکہ پچھلی روایت میں اور دیگر مصادر میں ان کا ذکر نہیں آیا، اور نہ ہی صحابہ و تابعین میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ معروف یہی ہے کہ یہ خبر سلیمان بن ابان بن ابی حدیر سے "مرسلاً" مروی ہے۔
(2) هذا نسبة إلى الخزرج بن عمرو، بطن من الأوس، وليس إلى الخزرج بن حارثة أخي أوسٍ.
فنی نکتہ / نسب: (2) یہ نسبت "خزرج بن عمرو" کی طرف ہے جو اوس کا ایک قبیلہ (بطن) ہے، نہ کہ "خزرج بن حارثہ" کی طرف جو اوس کے بھائی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4983 سے ماخوذ ہے۔