المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعَدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ امْرِئِ الْقَيْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ - ذِكْرُ شَهَادَةِ سَعَدِ بْنِ مُعَاذٍ وَحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ باب: سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرئ القیس بن زید بن عبد الاشہل رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ کی شہادت اور بنی قریظہ کے بارے میں آپ کا فیصلہ
حدیث نمبر: 4984
حَدَّثَنَا بذلك أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، عن شُيوخه (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر اپنے شیوخ سے سعد بن معاذ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ وہ خزرجی انصاری تھے، ان کی کنیت ابوعمرو تھی، غزوہ خندق کے دن قبیلہ اوس کا جھنڈا ان کے پاس تھا، انہیں بازو کی رگ (اکحل) میں تیر لگا جس سے وہ کٹ گئی اور خون بہنے لگا، یہ ہجرت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) صحيح مشهور، ولم ينفرد به محمد بن عمر - وهو الواقدي - فقد روى قصة إصابة سعد بن معاذ في أكحله غيرُ واحدٍ من الصحابة وغيرهم.
درجۂ حدیث: (3) یہ "صحیح مشہور" ہے۔ محمد بن عمر الواقدی اس میں منفرد نہیں، سعد بن معاذ ؓ کے اکحل (بازو کی رگ) میں تیر لگنے کا قصہ کئی صحابہ وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
منهم جابر بن عبد الله كما سيأتي عند المصنّف برقم (8492).
تفصیلِ روایت: ان میں سے جابر بن عبداللہ ؓ بھی ہیں جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (8492) میں آئے گا۔
ومنهم عائشة، أخرج خبرها أحمد 40 / (24294) و 42 / (25097)، والبخاري (4122)، ومسلم (1769).
حوالہ / مصدر: اور ان میں سیدہ عائشہ ؓ بھی ہیں، ان کی روایت مسند احمد: 40/ (24294) و 42/ (25097)، صحیح بخاری: (4122) اور صحیح مسلم: (1769) میں ہے۔
درجۂ حدیث: (3) یہ "صحیح مشہور" ہے۔ محمد بن عمر الواقدی اس میں منفرد نہیں، سعد بن معاذ ؓ کے اکحل (بازو کی رگ) میں تیر لگنے کا قصہ کئی صحابہ وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
منهم جابر بن عبد الله كما سيأتي عند المصنّف برقم (8492).
تفصیلِ روایت: ان میں سے جابر بن عبداللہ ؓ بھی ہیں جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (8492) میں آئے گا۔
ومنهم عائشة، أخرج خبرها أحمد 40 / (24294) و 42 / (25097)، والبخاري (4122)، ومسلم (1769).
حوالہ / مصدر: اور ان میں سیدہ عائشہ ؓ بھی ہیں، ان کی روایت مسند احمد: 40/ (24294) و 42/ (25097)، صحیح بخاری: (4122) اور صحیح مسلم: (1769) میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4984 سے ماخوذ ہے۔