کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — شہادت سے قبل ابو جابر کی بیٹیوں کے بارے میں وصیت
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا أحمد بن علي الخَزّاز، حَدَّثَنَا فَيض بن وَثِيق، حَدَّثَنَا أبو عُبادة (1) الأنصاري، أخبرني ابن شهاب، عن عُروة، عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ لجابرٍ: "يا جابرُ، ألا أُبشّرُك؟ " قال: بلى، بَشِّرني، بشّرك اللهُ بالخير، قال: "شعرْتَ أنَّ الله ﷿ أحيا أباك، فأقعدَه بين يديه؟ فقال: تمنَّ عليَّ عَبْدي ما شئتَ أُعطِيكَه، فقال: يا ربِّ، ما عبدتُك حَقَّ عبادتِك، أتمنّى أن تَرُدَّني إلى الدنيا، فأُقتَلَ مع النَّبِيّ مرةً أخرى، فقال: سَبَقَ مني أنك إليها لا تَرجِع" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4911 - فيض بن وثيق كذاب
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے جابر! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، آپ مجھے خوشخبری دیں، اللہ آپ کو خیر کی خوشخبری دے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عزوجل نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا؟ پھر فرمایا: اے میرے بندے! مجھ سے جو چاہے مانگ میں تجھے عطا کروں گا، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! میں تیری ویسی عبادت نہ کر سکا جیسا تیری عبادت کا حق تھا، میری تمنا ہے کہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مل کر ایک بار پھر شہید ہو جاؤں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری طرف سے یہ بات طے ہو چکی ہے کہ اب تم اس (دنیا) کی طرف واپس نہیں جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4973
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واه
تخریج حدیث «إسناده واهٍ بمرة من أجل أبي عبادة الأنصاري - واسمه عيسى بن عبد الرحمن بن فروة الزُّرقي - فهو متروك الحديث. وإعلال الذهبي له في "تلخيصه" بفيض أنه كذاب فغير مسلّم له ذلك، لأنَّ فيضًا هذا انفرد بتكذيبه ابن معين، وروى عنه أبو حاتم وأبو زرعة الرَّازيان، وأبو زرعة لا ...» [ترقيم الرساله 4973] [ترقيم الشركة 4940] [ترقيم العلميه 4911]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عَمْرَويه الصفّار، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا حسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا أبو هِلال، حَدَّثَنَا سعيدٌ يُكنى أبا مَسلَمة (3)، عن أبي نَضْرة، عن جابر، قال: قال لي أبي: يا بُنيَّ، لا أدري لَعلِّي أن أكونَ في أول من يُصابُ غدًا - وذاك يوم أُحدٍ - فأُوصيكَ ببُنيّاتِ عبد الله خيرًا، فالتقَوا فأُصِيبَ ذلك اليومَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4912 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! میرا خیال ہے کہ کل احد کے دن شہید ہونے والے اولین لوگوں میں میرا نام ہوگا، پس میں تمہیں عبداللہ کی بیٹیوں (اپنی بہنوں) کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں“، پھر جب جنگ ہوئی تو وہ اسی دن شہید ہو گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4974
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذ إسناد حسن من أجل أبي هلال» [ترقيم الرساله 4974] [ترقيم الشركة 4941] [ترقيم العلميه 4912]
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا أبو المُثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا أبو مَسْلمة، حَدَّثَنَا أبو نَضْرة، عن جابر بن عبد الله، قال: لما حَضَرَ قتالُ أُحُدٍ دعاني أبي من اللَّيل، فقال: إني لا أُراني إِلَّا مقتولًا في أول مَن يُقتَل من أصحابِ رسول الله ﷺ، وإني والله ما أدَعُ أحدًا - يعني - أعزَّ عليَّ منكَ بعد نَفْسٍ رسولِ الله ﷺ، وإنَّ عليَّ دَينًا فاقضِ عني دَيني، واستَوصِ بأخَواتك خيرًا، قال: فأصبحنا، فكان أولَ قَتيلٍ، فدفنتُه مع آخَرَ في قبرٍ، ثم لم تَطِبْ نفسي أن أترُكَه مع آخرَ في قبرٍ، فاستخرجتُه بعد ستةِ أشهرٍ، فإذا هو كيومَ وَضَعتُه غيرَ أُذُنِه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. وبيانُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4913 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب احد کا قتال قریب آیا تو میرے والد نے مجھے رات کے وقت بلایا اور فرمایا: ”میں اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ان اولین لوگوں میں دیکھ رہا ہوں جو شہید کیے جائیں گے، اور اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی جان کے بعد میرے نزدیک تم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ہے، مجھ پر کچھ قرض ہے اسے ادا کر دینا اور اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، جابر کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو وہ پہلے شہید تھے، میں نے انہیں ایک اور شخص کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کیا، پھر میرا دل اس بات پر مطمئن نہ ہوا کہ میں انہیں کسی دوسرے کے ساتھ قبر میں چھوڑ دوں، چنانچہ میں نے چھ ماہ بعد انہیں قبر سے نکالا تو وہ بالکل اسی حالت میں تھے جیسے میں نے انہیں پہلے دن رکھا تھا، سوائے ان کے کان کے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4975
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو المثنّى: هو معاذ بن المُثنَّى العَنْبَري، ومسدّد: هو ابن مُسَرْهَد.» [ترقيم الرساله 4975] [ترقيم الشركة 4942] [ترقيم العلميه 4913]
ما أخبرَنيهِ عبد الله بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا يحيى بن حبيب الحارِثي وعَبْدة بن عبد الله الخُزاعي، قالا: حَدَّثَنَا موسى بن إبراهيم بن كثير، قال: سمعت طلحة بن خِراشٍ يحدِّث عن جابر بن عبد الله، قال: قال لي رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله تعالى لا يُكلِّم أحدًا إلَّا من وراء حِجَابٍ، وإنه كلَّم أباكَ كِفاحًا، فقال: تَمنَّ علَيَّ" وذكر الحديثَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4914 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
طلحہ بن خراش سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں فرماتا مگر حجاب کے پیچھے سے، لیکن اس نے تمہارے والد سے آمنے سامنے کلام فرمایا اور کہا: مجھ سے کسی چیز کی تمنا کرو“، اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4976
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل طلحة بن خراش وموسى بن إبراهيم بن كثير، وقد انفردا بذكر تكليم الله لوالد جابر كفاحًا.» [ترقيم الرساله 4976] [ترقيم الشركة 4943] [ترقيم العلميه 4914]