کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن ربیع بن عمرو خزرجی عقبوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آخری سانسوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حَدَّثَنَا بن عبد الوهاب الحَجَبي، حَدَّثَنَا حاتم بن إسماعيل، عن عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فَرْوة، عن قَطَن بن وَهْب، عن عُبيد بن عُمير، عن أبي ذَرّ، قال: لما فرغَ رسولُ الله ﷺ يومَ أُحدٍ مَرّ على مُصعب بن عُمير (3) مقتولًا على طريقه، فقرأ: ﴿مَنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عَلَيْهِ﴾ الآية [الأحزاب: 23] (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب سعد بن الرَّبيع بن عمرو الخَزْرجي العَقَبيّ أحدُ النقباء الاثني عشر، وكان كاتبًا شهد بدرًا، وقُتل يومَ أُحُد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4905 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب سعد بن الرَّبيع بن عمرو الخَزْرجي العَقَبيّ أحدُ النقباء الاثني عشر، وكان كاتبًا شهد بدرًا، وقُتل يومَ أُحُد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4905 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب غزوہِ احد سے فارغ ہوئے تو راستے میں مصعب بن عمیر کے پاس سے گزرے جو شہید ہو چکے تھے، آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”ایمان والوں میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے وہ عہد سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن موسى البصري، حَدَّثَنَا أبو صالح عبد الرحمن بن عبد الله الطَّويل، حَدَّثَنَا مَعْن بن عيسى، عن مَخْرمة بن بُكَير، عن أبيه، عن أبي حازم (1)، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن أبيه، قال: بَعثَني رسولُ الله ﷺ يوم أُحد لِطَلب سعدِ بن الرَّبيع، وقال لي: "إن رأيتَه فأقْرِهِ مني السلامَ، وقُل له: يقولُ لكَ رسولُ الله: كيف تَجِدُك؟ " قال: فجعلتُ أطُوف بين القَتْلى، فأصبتُه وهو في آخر رَمَقٍ، وبه سبعون ضربةً ما بين طعْنةٍ برُمح، وضَربةٍ بسَيفٍ، ورميةٍ بسَهمٍ، فقلت له: يا سعدُ، إنَّ رسولَ الله ﷺ يقرأ عليك السلامَ، ويقول لك: خَبِّرني كيف تَجِدُك؟ قال: على رسولِ الله السلامُ وعليك السلامُ، قل له: يا رسولَ الله، أجِدُني أجدُ ريحَ الجنة، وقُل لِقومي الأنصار: لا عُذرَ لكُم عندَ الله إن يُخلَصْ إلى رسولِ الله ﷺ وفيكم شُفْرٌ يَطْرِفُ، قال: وفاضتْ نفسُه (2)، ﵀ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4906 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4906 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے غزوہِ احد کے دن سعد بن ربیع کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا اور مجھ سے فرمایا: ”اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ رسول اللہ ﷺ پوچھ رہے ہیں: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ زید کہتے ہیں: میں مقتولین کے درمیان چکر لگانے لگا تو میں نے انہیں آخری سانسوں میں پایا، انہیں نیزوں، تلواروں اور تیروں کے ستر زخم لگے تھے، میں نے ان سے کہا: ”اے سعد! رسول اللہ ﷺ آپ کو سلام کہتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ مجھے خبر دو تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ پر بھی سلام ہو اور تم پر بھی سلام ہو، ان سے عرض کرنا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے اندر جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، اور میری قوم انصار سے کہنا: اللہ کے ہاں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا اگر رسول اللہ ﷺ تک کوئی تکلیف پہنچ جائے جبکہ تمہاری ایک آنکھ بھی جھپک رہی ہو (یعنی تم میں سے ایک بھی زندہ ہو)“، راوی کہتے ہیں: پھر ان کی روح پرواز کر گئی، اللہ ان پر رحم فرمائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔