کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا مصعب الخیر، جو مصعب بن عمیر بن ہاشم ہیں، رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ غزوۂ اُحد کے دن شہید ہوئے
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرَمي، حدثنا هَنَّاد بن السَّرِيّ، حدثنا أبو بكر بن عيّاش عن عاصمٍ، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: أولُ رايةٍ عُقِدَت (1) في الإسلامِ لعبدِ الله بن جَحْشٍ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر مناقب مصعب الخير، وهو ابن عُمير بن هاشم قُتل يومَ أُحُد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4903 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر مناقب مصعب الخير، وهو ابن عُمير بن هاشم قُتل يومَ أُحُد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4903 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اسلام میں پہلا جھنڈا جو تیار کیا گیا وہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے لیے تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني إبراهيم بن محمد العَبْدَري (1)، عن أبيه، قال: كان مصعُب بن عُمير فتى مكةَ شبابًا وجمالًا، وكان أبَواه يُحِبّانِه، وكانت أمُّه تكسُوه أحسنَ ما يكون من الثياب وأرَقَّه، وكان أعطرَ أهلِ مكة، وكان رسولُ الله ﷺ يذكُره يقول: "ما رأيتُ بمكة أحسنَ لِمَّةٌ، ولا أرقَّ حُلَّةً، ولا أنعمَ نِعمةً، من مصعب بن عُمير" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4904 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4904 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم العبدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر مکہ کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوبرو اور خوبصورت تھے، ان کے والدین ان سے بہت محبت کرتے تھے، ان کی والدہ انہیں بہترین اور انتہائی نفیس لباس پہنایا کرتی تھیں اور وہ مکہ کے سب سے زیادہ معطر رہنے والے شخص تھے، رسول اللہ ﷺ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: ”میں نے مکہ میں مصعب بن عمیر سے زیادہ کسی کے بالوں کو خوبصورت، کسی کے لباس کو نفیس اور کسی کو اتنی نعمتوں میں پلا ہوا نہیں دیکھا۔“