کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ابتدائی فضائل — اس بچے کے پیشاب کا حکم جو ابھی دودھ کے سوا کچھ نہ کھاتا ہو کہ اس پر چھینٹے دیے جائیں، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جائے
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا يحيى بن محمد بن صاعد، حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا حسين بن زيد العَلَوي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده، عن علي: أنَّ رسول الله ﷺ أمرَ فاطمةَ فقال: "زِني شعرَ الحُسين وتَصدّقي بوزِنه فضةً، وأَعطي القابلةَ رِجْلَ العَقيقةِ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4828 - ليس بصحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4828 - ليس بصحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”حسین کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو، اور دائی کو عقیقے کے جانور کی ایک ران دے دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنزَي، حدثنا عثمان بن سعيد الدِارمي، حدثنا أبو اليَمَان، حدثنا إسماعيل بن عيّاش، حدثنا عطاء بن عَجْلان، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، عن أم الفضل، قالت: دَخَل علي رسول الله ﷺ وأنا أُرضِعُ الحُسين بن علي بلبن ابنٍ كان يقال له: قُثَم، قالت فتناولَه رسولُ الله ﷺ، فناولتُه إياه، فبالَ عليه، قالت: فأهوَيْتُ بيدي إليه، فقال رسول الله ﷺ: "لا تُزْرِمي ابني"، قالت: فرشَّه بالماء. قال ابن عباس: بَولُ الغلام الذي لم يأكل يُرَشُّ، وبول الجارية يُغسلُ (1).
هذا حديث قد رُوي بأسانيد، ولم يُخرجاه، فأما إسماعيل بن عيّاش وعطاء بن عجلان، فإنهما لم يُخرجاهما.
هذا حديث قد رُوي بأسانيد، ولم يُخرجاه، فأما إسماعيل بن عيّاش وعطاء بن عجلان، فإنهما لم يُخرجاهما.
حافظ طلحہ بابر
ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں حسین بن علی کو اپنے بیٹے قثم کے دودھ پر دودھ پلا رہی تھی، آپ ﷺ نے انہیں (گود میں) لے لیا تو انہوں نے آپ ﷺ پر پیشاب کر دیا، میں نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا (تاکہ انہیں ہٹاؤں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بیٹے کا پیشاب نہ رکواؤ“، پھر آپ ﷺ نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: دودھ پیتے لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
یہ حدیث مختلف اسناد سے مروی ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسماعیل بن عیاش اور عطاء بن عجلان کو انہوں نے اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی۔
یہ حدیث مختلف اسناد سے مروی ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسماعیل بن عیاش اور عطاء بن عجلان کو انہوں نے اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی۔