حدیث نمبر: 4890
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يزيد الرِّياحي، حدثنا عبد العزيز بن أبان، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي بن أبي طالب، قال: لما وَلَدَت فاطمةُ الحَسنَ، جاء رسولُ الله ﷺ فقال: "أَرُون، ابنى ما سَمَّيتموه؟ "، وذكر الحديث (1). هذا آخر ما أدَّى إليه الاجتهادُ من ذكرُ مَناقِب أهلِ بيتِ رسولِ الله ﷺ بالأسانيد الصحيحة، مما لم يُخرجه الشيخان الإمامان، وقد أمليتُ ما أدَّى إليه اجتهادي من فضائل الخلفاء الأربعة وأهلِ بيت رسولِ الله ﷺ، ما يصحُّ منها بالأسانيد. ثم رأيتُ الأَولَى لنَظْمِ هذا الكتابِ الترتيبَ بعدَهم على التواريخ للصحابة رضي الله عنهم أجمعين من أولِ الإسلام إلى آخر من مات منهم، والله المُعِينُ على ذلك برحمتِه. فمنهم: إياس بن معاذ الأشهلي ﵁ تُوفي بمكة قبل الهجرة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (سیدہ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ (راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔
یہ آخری حدیث تھی جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت کے مناقب کے سلسلے میں میری جدوجہد پہنچی، جن کی اسناد صحیح ہیں اور شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا، میں نے اپنی کوشش کے مطابق چاروں خلفاء اور اہل بیت کے فضائل کی وہ احادیث املا کرا دیں جن کی اسناد صحیح ہیں۔ اب میں نے اس کتاب کی ترتیب کے لیے یہ بہتر سمجھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا تذکرہ ان کی وفات کی تاریخ کے اعتبار سے کیا جائے، اسلام کی ابتدا سے لے کر ان میں سے آخری فوت ہونے والے تک، اور اللہ ہی اپنی رحمت سے اس پر مدد کرنے والا ہے۔ ان صحابہ میں سے ایک ایاس بن معاذ اشہلی رضی اللہ عنہ ہیں جو ہجرت سے پہلے مکہ میں فوت ہوئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4890
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد العزيز بن أبان - وهو ابن محمد الأموي - فهو متروك واتهمه بعضهم، لكن تقدَّم الحديث برقم (4829) من طريق عُبيد الله بن موسى العبسي عن إسرائيل - وهو ابن يونس بن أبي إسحاق السَبيعي - وهو حديث منكر كما تقدَّم بيانه.» [ترقيم الرساله 4890] [ترقيم الشركة 4858]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد العزيز بن أبان - وهو ابن محمد الأموي - فهو متروك واتهمه بعضهم، لكن تقدَّم الحديث برقم (4829) من طريق عُبيد الله بن موسى العبسي عن إسرائيل - وهو ابن يونس بن أبي إسحاق السَبيعي - وهو حديث منكر كما تقدَّم بيانه.
درجۂ حدیث: یہ سند عبدالعزیز بن ابان (ابن محمد الاموی) کی وجہ سے "ضعیف جداً" ہے، وہ "متروک" ہیں اور بعض نے ان پر الزام بھی لگایا ہے۔ لیکن یہ حدیث نمبر (4829) پر عبیداللہ بن موسیٰ العبسی عن اسرائیل (ابن یونس) کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہ حدیث "منکر" ہے جیسا کہ بیان ہو چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4890 سے ماخوذ ہے۔