حدیث نمبر: 4887
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عُبيد الله، عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ أَذَّن في أُذُن الحُسين حين وَلَدَتْه فاطمةُ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4827 - عاصم بن عبيد الله ضعف
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسین کی ولادت ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کے کان میں اذان کہی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4887
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عُبيد الله - وهم ابن عاصم بن عمر بن الخطاب - ومع ذلك صحَّحه الترمذي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عُبيد الله - وهم ابن عاصم بن عمر بن الخطاب - ومع ذلك صحَّحه الترمذي، وسكت عنه عبد الحق الإشبيلي مصححًا له، فتعقبه ابن القطان في "بيان الوهم " 4/ 594، وهذا الخبر على ضعَّفه المحفوظ فيه ذكر الحَسَن بن علي، وليس الحُسين كما وقع ...» [ترقيم الرساله 4887] [ترقيم الشركة 4855] [ترقيم العلميه 4827]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عُبيد الله - وهم ابن عاصم بن عمر بن الخطاب - ومع ذلك صحَّحه الترمذي، وسكت عنه عبد الحق الإشبيلي مصححًا له، فتعقبه ابن القطان في "بيان الوهم " 4/ 594، وهذا الخبر على ضعَّفه المحفوظ فيه ذكر الحَسَن بن علي، وليس الحُسين كما وقع في رواية المصنف هنا، حتى أورده في مناقب الحُسين بن علي. سفيان: هو ابن سعيد الثوري.
درجۂ سند: یہ سند عاصم بن عبیداللہ (جو ابن عاصم بن عمر بن الخطاب ہیں) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ اس کے باوجود ترمذی نے اسے صحیح کہا اور عبدالحق الاشبیلی نے سکوت کیا (گویا تصحیح کی)، جس پر ابن القطان نے "بیان الوہم" (4/ 594) میں تعاقب کیا۔
تصحیحِ متن: اس خبر میں (ضعف کے باوجود) جو محفوظ بات ہے وہ "حسن بن علی" کا ذکر ہے نہ کہ "حسین" کا (جیسا کہ مصنف کی روایت میں ہے اور وہ اسے مناقبِ حسین میں لے آئے)۔ سفیان سے مراد "ابن سعید الثوری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 45/ (27186) عن وكيع، وأحمد 39/ (23869) و 45/ (27194)، وأبو داود (5105)، والترمذي (1514) من طريق يحيى القطان، وأحمد 39/ (23869)، والترمذي (1514) من طريق عبد الرحمن بن مهدي ثلاثتهم عن سفيان الثوري بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. قلت: وكلُّهم ذكرُ في روايته الحَسَن بن علي بدل أخيه الحُسين.
تخریج / حوالہ جات: اسے احمد (45/ 27186) نے وکیع سے، اور احمد (39/ 23869، 45/ 27194)، ابوداؤد (5105) اور ترمذی (1514) نے یحییٰ القطان سے، اور احمد (39/ 23869) و ترمذی (1514) نے عبدالرحمن بن مہدی سے روایت کیا۔ یہ تینوں سفیان الثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا۔
نوٹ: ان سب نے اپنی روایت میں حسین کی جگہ "حسن بن علی" کا ذکر کیا ہے۔
وله شاهدان لا يُفرح بهما انظرهما في "مسند أحمد" (23869).
شواہد: اس کے دو شاہد ہیں لیکن وہ قابلِ التفات نہیں ہیں، انہیں "مسند احمد" (23869) میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4887 سے ماخوذ ہے۔