حدیث نمبر: 4854
وحدثني نصر بن محمد العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد الحافظ، حدثنا أحمد بن يحيى البَجَلي، حدثنا محمد بن إسحاق البَلْخي، حدثنا نُوح بن دَرّاج، عن الأَجلَح، عن البهيّ، عن سفيان بن الليل، قال: لما كان من أمرِ الحسن بن عليٍّ ومعاوية ما كان، قدمت عليه المدينة وهو جالسٌ في أصحابه، فذكر الحديث بطوله. قال: فتذاكرْنا عنده الأذانَ، فقال بعضُنا: إنما كان بَدءُ الأذان رؤيا عبد الله بن زيد بن عاصم، فقال له الحسن بن علي: إنَّ شأن الأذان أعظم من ذاك، أَذَّن جبريل ﵇ في السماء مثنى مثنى، وعلمه رسول الله ﷺ، وأقام مرةً مرةً، فعلمه رسول الله ﷺ، فأذن الحسن حين وَلِيَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4798 - قال أبو داود نوح بن دراج كذاب
حافظ طلحہ بابر

سفیان بن لیل سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان وہ معاملہ (صلح) ہو گیا جو ہونا تھا، تو میں مدینہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھے تھے (پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی)، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے پاس اذان کا تذکرہ کیا تو ہم میں سے بعض نے کہا کہ اذان کی ابتدا عبداللہ بن زید بن عاصم کے خواب سے ہوئی تھی، تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ”اذان کی شان اس سے کہیں زیادہ بلند ہے، جبرائیل علیہ السلام نے آسمان پر دو دو بار اذان دی اور اسے رسول اللہ ﷺ کو سکھایا، اور ایک ایک بار اقامت کہی اور وہ بھی رسول اللہ ﷺ کو سکھائی“، چنانچہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ حکمران بنے تو انہوں نے (اسی کے مطابق) اذان دی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4854
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف من أجل نوح بن دراج
تخریج حدیث «إسناده تالف من أجل نوح بن دراج، وقد سبق القول فيه عند الحديث (4745).» [ترقيم الرساله 4854] [ترقيم الشركة 4826] [ترقيم العلميه 4798]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف من أجل نوح بن دراج، وقد سبق القول فيه عند الحديث (4745).
درجۂ سند: یہ سند نوح بن دراج کی وجہ سے "تالف" (سخت ضعیف) ہے، اور ان کے بارے میں بات حدیث نمبر (4745) کے تحت گزر چکی ہے۔
وقد جاء في شأن بدء الأذان عدة أخبار نحو قول الحسن بن علي أوردها الحافظ ابن حجر في "الفتح" 3/ 8، وضعفها جميعًا، وقال: الحقُّ أنه لا يصح شيء من هذه الأحاديث.
فنی نکتہ / ضعف: اذان کی ابتدا کے بارے میں حسن بن علی کے قول جیسی کئی روایات آئی ہیں جنہیں حافظ ابن حجر نے "الفتح" (3/ 8) میں ذکر کیا اور ان سب کو ضعیف قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا: "حق یہ ہے کہ ان احادیث میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے۔"
ثم صحح الحافظ أن بدء الأذان هو رؤيا عبد الله بن زيد الذي أخرجه أحمد 26/ (16477) و (16478)، وأبو داود (499)، وابن ماجه (706)، والترمذي (189)، وابن حبان (1679)، وغيرهم من حديث عبد الله بن زيد نفسه وإسناده حسن.
تحقیق (اذان کی ابتدا): پھر حافظ (ابن حجر) نے تصحیح کی کہ اذان کی ابتدا دراصل عبداللہ بن زید کا خواب تھا، جسے احمد (26/ 16477 و 16478)، ابوداؤد (499)، ابن ماجہ (706)، ترمذی (189) اور ابن حبان (1679) وغیرہ نے خود عبداللہ بن زید کی حدیث سے روایت کیا ہے اور اس کی سند "حسن" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4854 سے ماخوذ ہے۔