کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے سے منع فرمانا
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحفيد، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرني حُميد وعلي بن زيد، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ كان يَمُرُّ بباب فاطمة ستة أشهرٍ إذا خرج الصلاة الفجر، يقولُ: "الصلاة يا أهل البيت ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4748 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4748 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل چھ ماہ تک جب نماز فجر کے لیے نکلتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرتے ہوئے فرماتے: ”اے اہل بیت! نماز (کا وقت ہے) ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، أخبرني أبي، عن الشعبي، عن سُوَيد بن غَفَلة، قال: خطب عليٌّ ابنة أبي جهل إلى عمها الحارث بن هشام، فاستشار النبي ﷺ فقال: "أعَن حَسَبِها تسألني؟ " قال عليٌّ: قد أعلمُ ما حَسَبُها، ولكن أتأمرني بها؟ فقال: "لا، فاطمةٌ مُضْغةٌ مني ولا أحسَبُ إلَّا وأنها تحزَنْ، أو تَجزَعُ"، فقال عليٌّ: لا آتي شيئًا تَكرَهُه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4749 - مرسل قوي
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4749 - مرسل قوي
حافظ طلحہ بابر
سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا رشتہ اس کے چچا حارث بن ہشام سے مانگا، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مشورہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے اس کے حسب و نسب کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کا حسب تو جانتا ہوں، لیکن کیا آپ مجھے اس نکاح کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرا ایک ٹکڑا ہے اور میرا یہی خیال ہے کہ وہ غمگین یا بے چین ہو جائے گی“، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا جو انہیں ناپسند ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي حنظلة رجلٍ من أهل مكة: أنَّ عليًّا خَطَبَ ابنة أبي جهل، فقال له أهلُها: لا نُزوِّجُك على ابنة رسول الله ﷺ، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فقال: "إنما فاطمةُ مُضغةٌ منّي، فمن آذاها فقد آذاني" (1).
حافظ طلحہ بابر
اہل مکہ میں سے ایک شخص ابو حنظلہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا رشتہ مانگا، تو اس کے گھر والوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کی موجودگی میں تمہارا نکاح اپنی بیٹی سے نہیں کریں گے، جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ تو میرا ایک ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔“