المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِذَا سَافَرَ النَّبِيُّ كَانَ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ فَاطِمَةُ . باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر جاتے تو سب سے آخر میں جس سے رخصت ہوتے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں
حدیث نمبر: 4793
أخبرنيه الحسين بن علي التميمي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن المعلّى الأدمي بالبصرة، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عوانة، عن العلاء بن المسيَّب، عن إبراهيم قُعَيس، فذكر بإسناده نحوه، وزاد فيه: فقال لها رسول الله ﷺ: "فداك أبي وأمي" (2). رواة هذا الحديث عن آخرهم في "الصحيح" غير إبراهيم قُعيس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4739 - إبراهيم قعيس ضعيفحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پچھلی حدیث کی طرح ہی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) سے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“
اس حدیث کے تمام راوی سوائے ابراہیم قعیس کے ”صحیح“ (بخاری و مسلم)کے راوی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره دون ذكر التفدية، فقد تفرَّد بها إبراهيم قعيس، وهو ضعيف. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "فدا کرنے کے الفاظ" کے بغیر "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: فدا کرنے کے الفاظ میں "ابراہیم قعیس" متفرد ہے اور وہ "ضعیف" ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "فدا کرنے کے الفاظ" کے بغیر "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: فدا کرنے کے الفاظ میں "ابراہیم قعیس" متفرد ہے اور وہ "ضعیف" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4793 سے ماخوذ ہے۔