المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِذَا سَافَرَ النَّبِيُّ كَانَ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ فَاطِمَةُ . باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر جاتے تو سب سے آخر میں جس سے رخصت ہوتے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں
حدیث نمبر: 4792
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، يحيى بن إسماعيل الواسطي، حدثنا محمد بن فُضيل، عن العلاء بن المسيب، عن إبراهيم قُعَيس، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ كان إذا سافَرَ كان آخر الناس عهدًا به فاطمة، وإذا قَدِمَ من سفر كان أول الناس به عهدًا فاطمة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو (اپنے اہل خانہ میں سے) سب سے آخر میں جس سے ملاقات کر کے رخصت ہوتے وہ سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ہوتیں اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے جن کے پاس تشریف لاتے وہ بھی سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ہوتیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لينٌ كما تقدّم بيانه برقم (1818). وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اور اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے جیسا کہ (1818) میں بیان ہو چکا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اور اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے جیسا کہ (1818) میں بیان ہو چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4792 سے ماخوذ ہے۔