حدَّثناه بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا محمد بن يونس بن موسى القُرشي، حدثنا نائل بن نَجيح، حدثنا فِطْر بن خليفة، عن حَبيب بن أبي ثابت، قال: دخل صَعْصعة بن صُوحان على عليٍّ، فقال: يا أمير المؤمنين، مَن تَستخلفُ؟ قال: إن يَعلمِ الله في قلوبكم خيرًا يَستخلِفْ عليكم خيرَكم. قال صَعْصَعة: فعلم اللهُ في قلوبنا شرًا فاستخلفَ علينا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4699 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4699 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ صعصعہ بن صوحان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کسے خلیفہ مقرر فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ تمہارے دلوں میں خیر دیکھے گا تو وہ تم پر تمہارے سب سے بہترین شخص کو خلیفہ بنا دے گا۔“ صعصعہ نے (تبصرہ کرتے ہوئے) کہا: ”پس اللہ نے ہمارے دلوں میں شر دیکھا تو (ایسا شخص) ہم پر حاکم بنا دیا۔“
حدثنا أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارَي، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا علي بن الجَعْد، حدثنا زُهير بن معاوية، قال: سمعت أبا إسحاق يُحدِّث عن عمرٍو الأصمِّ، قال: قلت للحسن بن علي: إِنَّ هذه الشيعة يَزْعُمون أنَّ عليًّا مبعوثٌ قبلَ يوم القيامة، قال: كَذَبوا، واللهِ ما هؤلاء بشيعةٍ، لو عَلِمْنا أنه مبعوثٌ ما زَوّجْنا نِساءَه، ولا اقتَسمْنا مالَه. (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4700 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمرو اصم سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ”یہ شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیامت سے پہلے ہی (دنیا میں) دوبارہ مبعوث کیے جائیں گے،“ تو آپ نے فرمایا: ”انہوں نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم وہ (حقیقی) شیعہ نہیں ہیں، اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے تو نہ ہم ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح کرتے اور نہ ہی ان کا مالِ وراثت آپس میں تقسیم کرتے۔“