وحدثنا محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني عليُّ بن عمر بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، قال: سمعت ابنَ الحَنفيّة في السنة التي مات فيها حين دَخَلَت؛ إحدى وثمانين، قال: هذه لي خمسٌ وستّون، جاوزتُ سِنَّ أَبي، مات أَبي وهو ابن ثلاثٍ وستين. ومات ابن الحنفيّة في تلك السَّنة (1). قال الحاكم: فأما مدةُ خلافةِ أمير المؤمنين عليٍّ ﵁، فعَلَى ما حَكَم به المصطفى ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4696 - فيه الواقدي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4696 - فيه الواقدي
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ سے مروی ہے، انہوں نے اس سال جس میں ان کا انتقال ہوا (یعنی سن 81 ہجری) فرمایا: ”اس وقت میری عمر پینسٹھ سال ہو چکی ہے، میں اپنے والد کی عمر سے بھی آگے نکل گیا ہوں، کیونکہ میرے والد کا جب انتقال ہوا تو ان کی عمر تریسٹھ سال تھی۔“ اور اسی سال ابن حنفیہ کی وفات ہوئی۔
امام حاکم نے کہا: جہاں تک امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدتِ خلافت کا تعلق ہے، تو وہ اسی کے مطابق ہے جس کا فیصلہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے:
امام حاکم نے کہا: جہاں تک امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدتِ خلافت کا تعلق ہے، تو وہ اسی کے مطابق ہے جس کا فیصلہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے:
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مَرزُوق البصري بمِصر، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد، حدثني أبي، حدثنا سعيد بن جُمْهانَ، عن سَفِينة أبي عبد الرحمن مولى النبي ﷺ، أن النبي ﷺ قال: "خلافةُ النبوة ثلاثون سنةً". قال سعيدٌ (1): أمسِك: أبو بكر سنتين، وعمر بن الخطاب عشرَ سنين، وعثمانُ بن عفّان اثنتي عشرة سنةً، وعليٌّ ستَّ سنين (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4697 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4697 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفینہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خلافتِ نبوت تیس سال تک رہے گی۔“ سعید کہتے ہیں کہ آپ (مدتِ خلافت کا) حساب کر لیں: سیدنا ابوبکر کی خلافت دو سال، سیدنا عمر بن خطاب کی دس سال، سیدنا عثمان بن عفان کی بارہ سال اور سیدنا علی کی مدتِ خلافت چھ سال بنتی ہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا عمرو بن عبد الله الأَوْدي، حدثنا محمد بن بِشر، عن موسى بن مُطَير، عن صَعْصعة بن صُوحان، قال: خَطَبَنا عليٌّ حين ضربَه ابن مُلجَم، فقلنا: يا أمير المؤمنين، استَخِلفْ علينا، فقال: أتركُكُم كما تركَنا رسولُ الله ﷺ، قلنا: يا رسول الله، استَخِلفْ علينا، فقال: "إنْ يَعلمِ اللهُ فيكم خيرًا يولِّ عليكم خِيارَكم". قال عليٌّ: فعَلِم اللهُ فينا خيرًا فولّى علينا أبا بكر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4698 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4698 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
صعصعہ بن صوحان سے روایت ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا، ہم نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ہمارے لیے کسی کو خلیفہ نامزد فرما دیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ رہا ہوں جس حال میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں چھوڑا تھا۔“ ہم نے (پہلے) عرض کیا تھا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کسی کو خلیفہ بنا دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر اللہ تمہارے حق میں خیر جانتا ہوگا تو تم پر تمہارے بہترین شخص کو حاکم بنا دے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”چنانچہ اللہ نے ہمارے حق میں خیر دیکھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا دیا۔“