المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً . باب: نبوی خلافت کی مدت تیس سال ہے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا عمرو بن عبد الله الأَوْدي، حدثنا محمد بن بِشر، عن موسى بن مُطَير، عن صَعْصعة بن صُوحان، قال: خَطَبَنا عليٌّ حين ضربَه ابن مُلجَم، فقلنا: يا أمير المؤمنين، استَخِلفْ علينا، فقال: أتركُكُم كما تركَنا رسولُ الله ﷺ، قلنا: يا رسول الله، استَخِلفْ علينا، فقال: "إنْ يَعلمِ اللهُ فيكم خيرًا يولِّ عليكم خِيارَكم". قال عليٌّ: فعَلِم اللهُ فينا خيرًا فولّى علينا أبا بكر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4698 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهصعصعہ بن صوحان سے روایت ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو آپ نے ہمیں خطبہ دیا، ہم نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ہمارے لیے کسی کو خلیفہ نامزد فرما دیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ رہا ہوں جس حال میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں چھوڑا تھا۔“ ہم نے (پہلے) عرض کیا تھا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے کسی کو خلیفہ بنا دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر اللہ تمہارے حق میں خیر جانتا ہوگا تو تم پر تمہارے بہترین شخص کو حاکم بنا دے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”چنانچہ اللہ نے ہمارے حق میں خیر دیکھی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا دیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "انتہائی ضعیف" ہے موسیٰ بن مطیر کی وجہ سے، وہ "متروک الحدیث" ہے اور ابن معین نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: غالب گمان ہے کہ مصنف کے ہاں یہاں سند سے "مطیر" (موسیٰ کے والد) کا نام گر گیا ہے، کیونکہ خیثمہ بن سلیمان کی کتاب "حدیثہ" (ص 131) میں احمد بن حازم نے محمد بن بشر (الاسدی الحریری) سے روایت کرتے ہوئے اسے سند میں شامل کیا ہے، اور ابن عساکر (30/ 289) کے ہاں یعقوب بن تواب نے ان کی متابعت کی ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ "مطیر بن ابی خالد" ہیں اور وہ بھی "ضعیف" ہیں۔ مصنف کے ہاں آگے یہ حدیث صعصعہ بن صوحان کے دوسرے طریق سے بھی آ رہی ہے مگر اس کی سند میں بھی ایک "متروک" اور ایک "ضعیف" راوی ہے۔
وقد تقدَّم من وجه آخر عن عليّ برقم (4517)، وهو ضعيف، وانظر ما سلف برقم (4608).
حوالہ / مصدر: یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے نمبر (4517) پر گزر چکی ہے اور وہ ضعیف ہے، نیز نمبر (4608) بھی ملاحظہ کریں۔