المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
النَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ . باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف نظر کرنا عبادت ہے
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكن، حدثنا الحارث بن منصور، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن جُرَيّ بن كُلَيب العامِري قال: لما سارَ عليٌّ إلى صِفّين كرهتُ القتالَ، فأتيتُ المدينةَ، فدخلتُ على مَيمونةَ بنت الحارث، فقالت: ممن أنتَ؟ قلت: من أهل الكوفة، قالت: من أيِّهم؟ قلت: من بني عامر، قالت: رُحْبًا على رُحْبٍ، وقُربًا على قُرب، مَجيءٌ ما جاءَ بك؟ قال: قلتُ: سارَ عليٌّ إلى صِفِّينَ وكرهتُ القتالَ، فجئنا إلى هاهنا، قالت: أكنتَ بايعتَه؟ قال: قلت: نعم، قالت: فارجِعْ إليه، فكُن معه، فواللهِ ما ضَلَّ ولا ضُلَّ به (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4680 - على شرط البخاري ومسلمجری بن کلیب عامری سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے قتال ناپسند محسوس ہوا، چنانچہ میں مدینہ آگیا اور ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے پوچھا: ”تم کہاں سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے پوچھا: ”کون سے قبیلے سے؟“ میں نے کہا: بنی عامر سے، انہوں نے فرمایا: ”خوش آمدید، تمہارا آنا مبارک ہو، یہاں کیسے آنا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف نکلے ہیں اور مجھے جنگ ناپسند تھی اس لیے میں یہاں آگیا، انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے ان کی بیعت کر رکھی تھی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: ”تو پھر ان کے پاس واپس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو، اللہ کی قسم! نہ وہ خود گمراہ ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے کوئی گمراہ ہوا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی اسناد میں "جُرَی العامری" کی وجہ سے لین (کمزوری) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ان سے روایت کرنے میں ابو اسحاق السبیعی منفرد ہیں۔ مصنف (حاکم) کی روایت میں ان کے والد کا نام "کلیب" ذکر کرنا وہم (غلطی) ہے، کیونکہ طبرانی کی روایت میں ان کا نام "جُرَی بن سمرہ" بیان ہوا ہے اور اسی طرح ابن حبان نے اپنی "الثقات" میں ان کا نام ذکر کیا ہے، اور یہی صحیح ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہاں ان کے والد کے نام میں وہم "حارث بن منصور" کی جانب سے ہوا ہے، جو کہ زیادہ قوی راوی نہیں ہیں اور ان سے اوہام سرزد ہوتے تھے۔ اس وہم کی بنیاد یہ بنی کہ ابو اسحاق - جو عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں - وہ ایک اور شخص سے بھی روایت کرتے ہیں جس کا نام "جُرَی بن کلیب النہدی الکوفی" ہے، اور یہ جری بن کلیب النہدی بھی علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں؛ پس حارث بن منصور پر دونوں راویوں کے حالات خلط ملط ہو گئے۔ حالانکہ یہ دو الگ آدمی ہیں، ایک "نہدی" ہے اور دوسرا "عامری"۔
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (24/ 12) میں یوسف بن ابی اسحاق السبیعی کے طریق سے، از والد خود، از جری بن سمرہ، اسی سند سے روایت کیا ہے۔ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (9/ 135) میں کہا: "اس کے رجال صحیح (بخاری و مسلم) کے رجال ہیں سوائے جری بن سمرہ کے، اور وہ ثقہ ہیں"۔ (نوٹ:) ہیثمی مجہول راویوں کو ثقہ قرار دینے میں اپنے تساہل (نرمی) کی وجہ سے معروف ہیں۔
وأخرج ابن أبي شيبة 12/ 81 عن حميد بن عبد الرحمن الرؤاسي، عن أبيه، عن أبي إسحاق، عمَّن حدّثه عن ميمونة، قال: لما كانت الفُرقة قيل لميمونة ابنة الحارث: يا أمَّ المؤمنين؟ فقالت: عليكم بابن أبي طالب، فوالله ما ضَلَّ ولا ضُلَّ به.
حوالہ / مصدر: اور ابن ابی شیبہ (12/ 81) نے حمید بن عبدالرحمن الرؤاسی سے، از والد خود، از ابو اسحاق روایت کیا ہے، وہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان کیا کہ: جب (امت میں) افتراق واقع ہوا تو میمونہ بنت حارث سے کہا گیا: اے ام المؤمنین (ہم کس کا ساتھ دیں)؟ تو انہوں نے فرمایا: "تم ابن ابی طالب (علی) کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ کی قسم نہ وہ گمراہ ہوئے اور نہ ان کے ذریعے کسی کو گمراہ کیا گیا"۔