حدیث نمبر: 4729
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا إبراهيم بن بشّار، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن أَعْيَن، عن أبي حرب بن أبي الأسود الدِّيْلي، عن أبيه، عن علي، قال: أتاني عبدُ الله بن سَلَام وقد وَضَعتُ رِجْلي في الغَرْزِ وأنا أُريد العراقَ، فقال: لا تأتي (1) العراقَ، فإنك إن أتيتَه أصابكَ به ذُبابُ السَّيف، قال عليُّ: وايْمُ اللهِ، لقد قالها لي رسولُ الله ﷺ قَبلَك. قال أبو الأسود: فقلتُ في نفسي: يا للهِ! ما رأيتُ كاليوم، رجلٌ محاربٌ يُحدِّث الناسَ بمثلِ هذا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4678 - ابن بشار ذو مناكير وابن أعين غير مرضي
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب میں نے عراق جانے کے ارادے سے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: ”عراق نہ جائیں، کیونکہ اگر آپ وہاں گئے تو آپ کو تلوار کی دھار کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ بات مجھ سے تم سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔“ ابوالاسود کہتے ہیں کہ میں نے اپنے جی میں کہا: سبحان اللہ! میں نے آج کے دن جیسا منظر نہیں دیکھا کہ ایک جنگجو شخص لوگوں کو اس طرح کی (اپنی شہادت کی) باتیں بتا رہا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4729
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الملك بن أعْيَن.» [ترقيم الرساله 4729] [ترقيم الشركة 4704] [ترقيم العلميه 4678]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في أصولنا الخطية بإثبات الياء مع أنه مجزوم بلا الناهية، فحق الياء أن تحذف، وإثباتها جائز على إشباع الكسرة، فليست هي الياء الأصلية.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں (Manuscripts) میں یہ لفظ اسی طرح "یاء" کے اثبات کے ساتھ موجود ہے حالانکہ یہ "لا ناہیہ" کی وجہ سے مجزوم ہے، لہٰذا قاعدے کے مطابق یاء کو حذف ہونا چاہیے تھا۔ البتہ یاء کا باقی رہنا کسرہ (زیر) کے اشباع (کھینچ کر پڑھنے) کی بنا پر جائز ہے، پس یہ اصلی یاء نہیں ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل عبد الملك بن أعْيَن.
درجۂ حدیث: اس کی اسناد حسن ہے عبدالمالک بن اعین کی وجہ سے۔
وأخرجه ابن حبان (6733) عن الفضل بن الحباب، عن إبراهيم بن بشّار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6733) نے فضل بن حباب سے، از ابراہیم بن بشار، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد تابع إبراهيمَ بنَ بشار عليه جماعةٌ حفاظٌ، منهم الحُميدي في "مسنده" (53).
متابعات و شواہد: حفاظ کی ایک جماعت نے اس روایت میں ابراہیم بن بشار کی متابعت (تائید) کی ہے، جن میں حمیدی بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی "مسند" (53) میں اسے روایت کیا ہے۔
الغَرْز: رِكابُ الرَّحْل من جلد مخروز، فإذا كان من حديد أو خشب فهو رِكابٌ.
لغوی تحقیق: الغَرْز: یہ اونٹ کے کجاوے کا وہ رکاب ہے جو سلے ہوئے چمڑے سے بنا ہو، اگر یہ لوہے یا لکڑی کا ہو تو اسے "رِکاب" کہتے ہیں۔
وذُباب السيف: طرفه الذي يُضرب به.
لغوی تحقیق: ذُباب السيف: تلوار کا وہ کنارہ جس سے ضرب لگائی جاتی ہے (تلوار کی نوک)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4729 سے ماخوذ ہے۔