حدثني أبو بكر محمد بن علي الفقيه الإمام الشاشِي ببُخارى، حدثنا النعمان بن هارون البَلَدي، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الله بن يزيد الحَرّاني، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن عبد الله بن عثمان بن خُثيم، عن عبد الرحمن بن عثمان، قال سمعتُ جابرَ بن عبد الله يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ يومَ الحُديبيَة وهو آخذٌ بضَبْعِ عليّ بن أبي طالب وهو يقول: "هذا أميرُ البَرَرة، وقاتِلُ الفَجَرة، منصورٌ من نَصَرَه، ومخذولٌ من خَذَلَه"، ثم مدَّ بها صوتَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4644 - بل والله موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4644 - بل والله موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بازو پکڑ رکھا تھا اور فرما رہے تھے: ”یہ نیک لوگوں کے امیر اور بدکاروں کو قتل کرنے والے ہیں، اس کی مدد کی جائے گی جو ان کی مدد کرے گا اور وہ رسوا ہوگا جو انہیں تنہا چھوڑ دے گا (ان کی مدد نہیں کرے گا)۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے اپنی آواز کو بلند فرمایا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن سفيان التِّرمذي، حدثنا سُريج بن يونس، حدثنا أبو حفص الأَبّار، حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قالت فاطمةُ: يا رسولَ الله، زَوَّجْتَني من علي بن أبي طالب، وهو فَقيرٌ لا مالَ له، فقال: يا فاطمةُ، أما ترضَينَ أَنَّ الله ﷿ اطلَّع إلى أهلِ الأرضِ، فاختارَ رجلَين: أحدُهما أبوكِ، والآخرُ بَعْلُكِ" (1). [
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4645 - بل موضوع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4645 - بل موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے میرا نکاح علی بن ابی طالب سے کر دیا ہے حالانکہ وہ فقیر ہیں اور ان کے پاس مال و دولت نہیں ہے،“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اللہ عزوجل نے اہل زمین کی طرف (تجلی فرمائی اور) خاص نظر ڈالی تو ان میں سے دو مردوں کو چن لیا: ایک تمہارے والد اور دوسرے تمہارے شوہر۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل ومحمد بن أحمد بن بالَوَيهِ وأحمد بن يعقوب الثقفي، قالوا: أخبرنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعمَري، حدثنا (1) أبو الصَّلت عبد السلام بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا مَعمَر، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن ابن عبّاس، فذكر نحوه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه] (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4645 - بل موضوع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه] (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4645 - بل موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارِثي، حدثنا حُسين بن حَسن الأشقر، حدثنا منصور بن أبي الأسود، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن عبّاد بن عبد الله الأسَدي، عن علي: ﴿إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾ [الرعد: 7]، قال علي: رسولُ الله ﷺ المنذر، وأنا الهادي (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4646 - بل كذب قبح الله واضعه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4646 - بل كذب قبح الله واضعه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾ [سورة الرعد: 7] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ ڈرانے والے (منذر) ہیں اور میں ہدایت کا راستہ دکھانے والا (ہادی) ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔