کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمانا: تم میرے بعد میری امت کے اختلافات کو واضح کرو گے
حدثنا عَبْدان بن يزيد بن يعقوب الدَّقّاق من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيْزِيل، حدثنا أبو نُعيم ضِرار بن صُرْد، حدثنا مُعتمِر بن سليمان، قال: سمعتُ أبي يَذكُر عن الحسن، عن أنس بن مالك: أنَّ النبي ﷺ قال لِعليٍّ: "أنتَ تُبيّن لأمتي ما اختلَفُوا فيه بَعدِي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4620 - بل هو فيما اعتقده من وضع ضرار
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم میرے بعد میری امت کے لیے ان باتوں کی وضاحت کرو گے جن میں وہ اختلاف کریں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل ضرار بن صُرد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل ضرار بن صُرد، فهو متروك الحديث، واتهمه ابن مَعِين بالكذب، وقال الذهبي في "تلخيصه": هو فيما أعتقده من وضع ضرار، وجزم في "تاريخ الإسلام" 5/ 590 بأنه حديث موضوع، وقال أبو حاتم الرازي فيما نقله عنه ابنه في "الجرح والتعديل" 4/ 465 - 466: روى ...» [ترقيم الرساله 4670] [ترقيم الشركة 4646] [ترقيم العلميه 4620]
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا أبو غسان، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا الأعمش، عن إسماعيل بن رجاء، عن أبيه، عن أبي سعيد. قال ابن أبي غَرَزة: وحدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا فِطْر بن خَليفة، عن إسماعيل بن رجاء، عن أبيه، عن أبي سعيد، قال: كنا مع رسول الله ﷺ، فانقطعتْ نعلُه، فتخلّف عليٌّ يُصلِحها، فمشى قليلًا ثم قال: "إنَّ منكم مَن يُقاتِل على تأويلِ القرآن كما قاتَلتُ على تَنزيلِه"، فاستشرفَ لها القومُ، وفيهم أبو بكر وعمر، قال أبو بكر: أنا هو؟ قال: "لا" قال عمر: أنا هو؟ قال: "لا، ولكن خاصِفُ النعْلِ - يعني عليًّا - " فأتيناهُ فبشّرناه، فلم يَرفَع به رأسَه، كأنه قد كان سمعَه من رسولِ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4621 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ ﷺ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے درست کرنے کے لیے پیچھے رہ گئے۔ آپ ﷺ تھوڑی دور چلے پھر رک کر فرمایا: ”تم میں سے ایک ایسا شخص ہے جو قرآن کی تاویل (صحیح مفہوم کی حفاظت) پر اسی طرح قتال کرے گا جس طرح میں نے اس کی تنزیل (وحی کے ابلاغ) پر قتال کیا ہے۔“ اس پر صحابہ نے اشتیاق سے سر اٹھا کر دیکھا جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، سیدنا ابوبکر نے پوچھا: کیا وہ میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں،“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا وہ میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ شخص وہ ہے جو جوتا گانٹھ رہا ہے (یعنی علی)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ خوشخبری دی، لیکن انہوں نے (اپنے کام میں مگن رہے اور) سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا، گویا انہوں نے یہ بات پہلے ہی رسول اللہ ﷺ سے سن رکھی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو غسان: هو مالك بن إسماعيل، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ورجاء: هو ابن ربيعة الزُّبيري الكوفي.» [ترقيم الرساله 4671] [ترقيم الشركة 4647] [ترقيم العلميه 4621]